بنگلہ دیش: حسینہ واجد کے سابق وزیر کو سزائے موت، تین رہنماؤں کو عمر قید کی سزا
بنگلہ دیش: حسینہ واجد کے سابق وزیر کو سزائے موت، تین رہنماؤں کو عمر قید کی سزا
جمعرات 29 اکتوبر 2026 15:43
سزائے موت پانے والے رہنما محمد محبوب العالم حنیف سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری جنرل تھے (فائل فوٹو: ڈھاکہ ٹریبیون)
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جمعرات کو سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے ایک سینئر رہنما کو سال 2024 کی عوامی تحریک کے دوران چھ افراد کے قتل میں کردار ادا کرنے پر اُن کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی ہے، جبکہ جماعت کے تین دیگر رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کی برطرفی کے بعد اُن کی جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے اِن چاروں رہنماؤں کو ملک کے مغربی ضلع کُشتیہ میں بدامنی کے دوران چھ افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ اِس عوامی تحریک کے نتیجے میں سابق وزیراعظم کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔
تین رُکنی ٹریبونل نے جس رہنما کو سزائے موت سنائی، اُن کا نام محمد محبوب العالم حنیف ہے۔ وہ عوامی لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری جنرل تھے اور شیخ حسینہ واجد کے سخت گیر دورِ حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔
چیف پراسیکیوٹر محمد امین الاسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملزموں کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔‘
امین الاسلام کے مطابق ٹریبونل نے اِن چاروں رہنماؤں کی غیر منقولہ جائیدادوں کا نصف حصہ ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ جائیدادیں سال 2024 کی تحریک کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائیں گی۔
عدالت کی جانب سے مقرر کردہ وکیلِ دفاع محمد امیر حسین نے اِس فیصلے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران 14 سو افراد جان سے گئے تھے۔ یہ ہلاکتیں اُس وقت ہوئیں جب شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی۔
شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ اگست 2024 میں ہوا، جب وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک انڈیا فرار ہو گئیں۔ وہ اب بھی انڈیا میں روپوش ہیں۔
انہیں نومبر 2025 میں بھی اُن کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
جمعرات کو سنائے گئے فیصلے کے بعد سال 2024 کی عوامی تحریک سے متعلق جرائم میں سزا پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 72 ہو گئی ہے۔ اِن میں سے 23 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے، تاہم صرف چار ہی زیرِ حراست ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ وہ سزائے موت کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی مرضی سے دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئیں گی (فائل فوٹو: روئٹرز)
شیخ حسینہ واجد نے عدالت کے قانونی اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔
فروری میں ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت نے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ انتخابات شیخ حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے عام انتخابات تھے۔
78 سالہ شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ وہ سزائے موت کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی مرضی سے دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔