Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سیالکوٹ میں بھگدڑ سے ایک شخص ہلاک، ٹِک ٹاکر ’مسٹر پتلو‘ سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ

تقریب کے دوران لاؤڈ سپیکر پر شرکاء کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا گیا (فائل فوٹو: سیالکوٹ پولیس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر ’مسٹر پتلو‘ کی شادی کے موقعے پر بھگدڑ سے ایک شخص ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے جس کے بعد پولیس نے مسٹر پتلو سمیت نو نامزد افراد اور 40 سے 45 نامعلوم افراد کے خلاف پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اتوار کو ترجمان سیالکوٹ پولیس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ مقدمے میں حفاظتی ایس او پیز اور اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی سمیت مختلف الزامات شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’بدقسمتی سے اس افسوس ناک واقعے میں ایک شہری عقیل ولد بشیر احمد ہلاک ہو گیا جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی گئی اور طبی امداد کے بعد انہیں ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔‘
ابتدائی پولیس تحقیقات میں سامنے آیا کہ شادی کی تقریب کے منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے موٹر سائیکلوں، کار اور دیگر قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کی تشہیر کر کے بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا تھا۔
تقریب کے دوران لاؤڈ سپیکر پر شرکاء کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا گیا، جس کے نتیجے میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔ بھگدڑ کے دوران مین ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ ہنگامہ آرائی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ’واقعے میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘ (فوٹو: سیالکوٹ پولیس)

ڈی پی او سیالکوٹ کیپٹن (ر) دوست محمد نے کہا کہ ’شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ کسی بھی عوامی اجتماع یا تقریب میں حفاظتی انتظامات سے غفلت اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’واقعے میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مقدمے کی تفتیش میرٹ پر مکمل کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
دوسری جانب ترجمان ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر کو ڈسکہ میں چار دیواری کے اندر نجی فنکشن کے دوران محفلِ سماع وغیرہ کے انعقاد کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا جو شرائط کی خلاف ورزی کے پیش نظر ایونٹ شروع ہونے سے قبل ہی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

 

شیئر: