یہ شاید ایسا پہلا موقع ہو کہ کسی چور کا پھولوں کے ہار پہنا کر اور ڈھول بجا کر استقبال کیا گیا ہو۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں ایک نوجوان نے دکان سے موبائل فون چوری کیا تو دکاندار کئی روز تک پریشان رہے اور خود ہی چور کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر اسے ڈھونڈنے میں کامیاب بھی ہوگئے لیکن وہ جس نوجوان کو پولیس کے حوالے کرنے کے ارادے سے اپنے ساتھ سیالکوٹ لائے تھے، اُس کی کہانی سننے کے بعد اُن کا فیصلہ بدل گیا۔
وہ واپس دکان پر پہنچے تو دوستوں نے اِن کا ڈھول بجا کر استقبال کیا، ہار پہنائے اور پھر اس نوجوان کو پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور اُسے واپس اُس کے گھر والوں کے سپرد کر دیا۔
مزید پڑھیں
-
انڈیا: چوری کے ڈر سے دفنائی گئی لاکھوں کی رقم کو دیمک چاٹ گئیNode ID: 907336
-
فجی کی عدالت سے تقریباً 40 کلو کوکین چوری، آٹے سے تبدیل کردی گئیNode ID: 909004
یہ واقعہ چار اکتوبر 2026 کو سیالکوٹ کی مجاہد روڈ پر واقع ٹریڈ سینٹر میں پیش آیا جہاں محمد علی ستار کی دکان سے ایک موبائل فون چوری ہوا۔
محمد علی ستار کے مطابق ان کی پیدائش ابو ظہبی میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگی کے 32 برس ابو ظہبی میں ہی گزارے جبکہ گزشتہ سات برس سے وہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں کاروبار کر رہے ہیں۔
اُن کے مطابق چوری ہونے والے آئی فون کی قیمت ایک لاکھ 75 ہزار روپے تھی۔ انہوں نے اردو نیوز کو اس روز کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کی جس میں اُس نوجوان کو دکان میں موجود دیکھا جا سکتا ہے۔
اُس نے سر پر کیپ پہن رکھی ہے اور کندھوں پر بیگ لٹکایا ہوا ہے۔ وہ کافی دیر تک دکان پر موجود رہتا ہے اور پھر دبے قدموں وہاں سے نکل جاتا ہے۔ محمد علی ستار کے مطابق وہ اُس وقت گاہکوں کے ساتھ مصروف تھے اور انہیں اندازہ نہیں ہوا کہ اُن کی دکان سے موبائل فون غائب ہو چکا ہے۔
محمد علی ستار نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موبائل فون چوری ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے پولیس کو درخواست دی لیکن ساتھ ہی خود بھی نوجوان کی تلاش شروع کر دی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چند روز کی کوششوں کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ نوجوان لاہور میں کام کرتا ہے۔ ہم اُس کی تلاش میں لاہور پہنچے اور اُن لوگوں سے رابطہ کیا جن کے ساتھ نوجوان کام کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اِن افراد نے اُن کے ساتھ تعاون کیا اور نوجوان کے گھر کا پتا بتایا۔ اِس طرح انہیں معلوم ہوا کہ نوجوان کا تعلق پنجاب کے ضلع وزیرِ آباد کے علاقے علی پور چٹھہ سے ہے۔

محمد علی ستار اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ وہاں پہنچے تو نوجوان کے اہلِ خانہ نے بھی تعاون کیا۔ اُن کا موبائل فون چوری کرنے والے نوجوان کے خاندان سے متعلق کہنا تھا کہ ‘ہمیں پہلے انہوں نے موبائل فون واپس کیا اور پھر نوجوان ہمارے حوالے کر دیا گیا۔ اہلِ خانہ نے ہمیں یہ اختیار دیا تھا کہ ہم اگر چاہیں تو اسے پولیس کے حوالے کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی کہا کہ اگر اسے چھوڑنا چاہیں تو اللہ کی خاطر معاف کر دیں۔‘
اُس وقت تک اُن کا ارادہ یہی تھا کہ نوجوان کو سیالکوٹ لے جا کر پولیس کے حوالے کریں گے۔
محمد علی ستار بتاتے ہیں کہ ’ہم بہت زیادہ تنگ ہو گئے تھے۔ جب سے چوری ہوئی تھی ہم پریشان تھے۔ اتنے دنوں سے ہم باقاعدگی سے دکان پر بھی نہیں جا سکے تھے۔ مارکیٹ میں موجود ہمارے دوست بھی پریشان تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ چور پکڑا گیا ہے اور ہم واپس آ رہے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔‘
محمد علی ستار کے مطابق نوجوان فوٹو ایڈیٹنگ اور ویڈیوز بھی ایڈٹ کیا کرتا تھا۔ نوجوان کے ساتھ گفتگو کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ اسے موبائل فون کی ضرورت تھی۔ وہ سفر کے دوران ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’ہم اس کو ساتھ لے کر آئے تو یہی سوچا تھا کہ اِس نے ہمارا وقت ضائع کیا ہے اور موبائل بھی چوری کیا ہے، اس لیے اسے پولیس کے حوالے کریں گے لیکن راستے میں ہمیں محسوس ہوا کہ وہ پیشہ ور چور نہیں تھا۔ اُس نے موبائل فون اپنے پاس رکھ لیا تھا اور اس پر خوب صورت کوور بھی چڑھا رکھا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ موبائل ملنے کے بعد وہ اس پر ایڈیٹنگ کر کے کمائی کر سکے گا۔‘
محمد علی ستار جب موبائل فون چوری کرنے والے نوجوان کو لے کر سیالکوٹ واپس پہنچے تو اُن کے دوستوں نے اُن کے استقبال کی تیاری کر رکھی تھی۔ دکان پر ڈھول بجانے والے کو بلایا گیا تھا، ہار منگوائے گئے تھے اور پھولوں سے استقبال کا انتظام کیا گیا تھا۔
یہ استقبال دراصل اِن دوستوں کی خوشی کا اظہار تھا جو کئی روز سے محمد علی ستار کی پریشانی سے واقف تھے اور چاہتے تھے کہ موبائل فون چوری کرنے والا نوجوان پکڑا جائے۔













