صوبہ پنجاب میں 29 اگست 2017 کو سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والا بوئنگ 767 گذشتہ 9 برس سے وہیں کھڑا ہے۔ اس دوران دو کمپنیوں کے درمیان تنازع عدالت تک پہنچا، پارکنگ فیس دینے والا کوئی نہیں تھا اور بالآخر طیارے کی نیلامی کی نوبت آ گئی۔
اب مئی 2026 میں جاری ہونے والے اشتہار میں اس کی قیمت چار لاکھ امریکی ڈالرز مقرر کی گئی ہے۔ برسوں سے زمین پر کھڑا یہ جہاز سیالکوٹ کیسے آیا اور اس کا کوئی مالک کیوں سامنے نہیں آسکا؟
سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کھڑا بوئنگ 767 طیارہ برسوں سے اپنی اگلی پرواز کا منتظر ہے۔ مسافروں کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے والا یہ طیارہ اب خود ایک طویل قانونی اور تجارتی تنازع کا شکار ہو کر پراسراریت کا شکار ہوگیا ہے۔ اس کے انجن، نشستیں اور لینڈنگ گیئر اپنی جگہ سلامت ہیں لیکن کئی سال سے کھڑے رہنے کے باعث یہ اس وقت پرواز کے قابل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
-
ایتھنز کے قریب ایئر شو کے دوران یونانی جنگی طیارہ گر کر تباہNode ID: 908157
مئی 2026 میں جاری ہونے والے نیلامی کے اشتہار میں اس طیارے کی ابتدائی قیمت چار لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم اس طیارے کو قابل پرواز بنانے کے لیے بھاری اخراجات اور تکنیکی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ طیارہ سیالکوٹ ایئرپورٹ کیسے پہنچا؟
اردو نیوز سے گفتگو میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ترجمان عمیر خان نے بتایا کہ یہ طیارہ 2017 سے ایئرپورٹ پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق فلائی جیٹ ایشیا کا پاکستان کی ایک نجی کمپنی کے ساتھ معاہدہ تھا جس کے تحت یہ جہاز لاہور اور سیالکوٹ آتا جاتا رہا۔
ان کے بقول 'تاہم 29 اگست 2017 کو جب یہ آخری مرتبہ سیالکوٹ ایئرپورٹ پہنچا تو اس کے بعد دونوں کمپنیوں کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچا لیکن اس دوران ایئرپورٹ کو جہاز کی پارکنگ فیس نہیں دی گئی‘ یوں یہ طیارہ ایئرپورٹ پر ہی کھڑا رہا اور اس کی واپسی یا منتقلی کا معاملہ حل نہ ہو سکا۔
عمیر خان بتاتے ہیں کہ پارکنگ فیس کی عدم ادائیگی پر سیالکوٹ ایئرپورٹ انتظامیہ نے عدالت سے رجوع کیا۔ وہ عدالتی کارروائی سے متعلق بتاتے ہیں کہ ’عدالت نے ایئرپورٹ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیا اور طیارے کو ایئرپورٹ کی ملکیت قرار دے دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے جہاز بنانے والی کمپنی سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن معلوم ہوا کہ متعلقہ کمپنی دیوالیہ ہو چکی ہے اور اس سے رابطہ قائم نہیں ہو پا رہا تھا۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ اس صورت حال میں قانونی کارروائی کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھانا ضروری ہو گیا تھا۔
اردو نیوز کے پاس دستیاب مئی 2026 کے نیلامی کے اشتہار میں بھی عدالتی کارروائی کا حوالہ موجود ہے جس میں پانچ مئی 2026 کے عدالتی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے۔
برطانیہ سے آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور پھر پاکستان
طیاروں کے تاریخی ریکارڈ مرتب کرنے والی ویب سائٹ آسٹریلین ایئرلائنرز کے مطابق یہ بوئنگ 767 اپریل 1991 میں برٹش ایئرویز کے بیڑے میں شامل ہوا جہاں اسے ’سٹی آف لکسمبرگ‘ کا نام دیا گیا اور اس نے لندن سے روم سمیت مختلف روٹس پر پروازیں کیں۔
ستمبر 2000 میں یہ آسٹریلیا کی فضائی کمپنی قنطاس کو لیز پر دیا گیا جہاں اس نے سڈنی اور برسبین سمیت مختلف روٹس پر خدمات انجام دیں۔ مئی 2013 میں قنطاس کی سروس سے نکلنے کے بعد اگست 2013 میں اسے امریکی کمپنی جیٹ مڈویسٹ گروپ کے نام پر رجسٹر کیا گیا، جبکہ دسمبر 2013 میں یہ تھائی لینڈ پہنچا اور جنوری 2014 میں جیٹ ایشیا ایئرویز کے لیے اس کی تجارتی پروازیں شروع ہوئیں۔

تھائی شہری طیاروں کے رجسٹر اور آسٹریلین ایئرلائنرز کے ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2015 میں یہ اقوام متحدہ کے چارٹر مشنز کے لیے بنکاک سے روانہ ہوا، نومبر 2015 میں پاکستان میں موجود تھا اور سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ہنگامی انخلا کی مشق میں بھی استعمال ہوا۔ بعد ازاں اس نے پاکستان، جدہ اور افریقہ کے درمیان پروازیں کیں جبکہ اس کی آخری ریکارڈ شدہ پرواز 30 جون 2017 کو لاہور کے لیے تھی۔ بالآخر 29 اگست 2017 کو یہ سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کھڑا ہوا۔
جہاز کی قیمت میں کیا شامل ہے؟
سیالکوٹ ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق جہاز کی نیلامی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اس حوالے سے اخبارات اور سوشل میڈیا پر قشتہار بھی جاری کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس جہاز کی کئی تصویریں صارفین شیئر کر رہے ہیں اور اسے ’پراسرار جہاز‘ کہہ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایئرپورٹ کے ترجمان بتاتے ہیں ’یہ کمرشل جہاز ہے اور اپنی اصلی حالت میں کھڑا ہے۔ یہ کوئی پراسرار جہاز نہیں ہے۔‘
مئی 2026 کے اشتہار کے مطابق یہ بوئنگ 767-300 ای آر ماڈل کا طیارہ ہے جو 1991 میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کا رجسٹریشن نمبر ایچ ایس جے اے ایس اور بنانے والی کمپنی کا سیریل نمبر 25203 درج ہے۔ اشتہار میں طیارے کے مجموعی پرواز 54 ہزار 500 گھنٹے اور پروازوں کے چکروں کی تعداد 32 ہزار 651 بتائی گئی ہے۔
اشتہار میں اس کے دو رولز رائس انجنوں کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ جہاز کی موجودہ حالت سے متعلق عمیر خان نے بتایا کہ ’اس وقت جہاز اپنی اصل حالت میں کھڑا ہے اور اس کے انجن، نشستیں اور لینڈنگ گیئر موجود ہیں۔ خریدار اپنی ضرورت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ جہاز کو دوبارہ قابل پرواز بنانا چاہتا ہے یا اس کے مختلف حصے استعمال کرنا چاہتا ہے۔‘

کیا یہ بوئنگ دوبارہ اڑ سکتا ہے؟
گزشتہ 9 برس سے سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کھڑے یہ طیارہ بغیر اڑائے کھڑا ہے تو کیا یہ دوبارہ اڑانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ترجمان عمیر خان نے بتایا کہ ’اس جہاز کی ایئر وردینیس نہیں ہے کیونکہ یہ کئی سالوں سے یہاں کھڑا ہوا ہے۔ اس کو دوبارہ اڑانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے لیکن اس پر خطیر رقم خرچ ہوگی۔ جو بھی جہاز لینے میں دلچسپی ظاہر کرے گا تو اگر وہ اسے اڑانا چاہے یا اس کے کمپوننٹس فروخت کرنا چاہے وہ اس کی صوابدید ہے۔ اس وقت اس کا انجن، لینڈنگ گئیر، سیٹس سب اپنی اصلی حالت میں ہیں۔‘
دوسری طرف ایئرکرافٹ ڈاٹ کام پر اس طیارے کی تجارتی فہرست میں اسے ناقابل پرواز اور فضائی اہلیت سے محروم بتایا گیا ہے۔












