Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کا نیا احتجاج، ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات

اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی کال پر ہونے والے اس احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کو ملک کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کی تجدید کرتے ہوئے نیا احتجاج کیا۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی کال پر ہونے والے اس احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین میں سے بعض موسیقی کے آلات اٹھائے ہوئے تھے جبکہ مختلف جھنڈے لہرا رہے تھے اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
 2023 میں مودی کو اقتدار سے ہٹانے کے مقصد سے قائم ہونے والے اس اتحاد کی متعدد جماعتوں نے مختلف ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو احتجاج میں شرکت کے لیے متحرک کیا۔ یہ مظاہرہ نئی دہلی میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کے چند ہفتوں بعد منعقد ہوا۔
مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج کو نوجوانوں کی ’کاکروچ‘ تحریک کی بھی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین نے انڈیا میں جمہوریت کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا، جنہیں ووٹر فہرستوں میں متنازع نظرثانی کے باعث تنقید کا سامنا ہے۔
مظاہرین نئی دہلی کے وسیع عوامی مقام رام لیلا میدان میں جمع ہوئے۔ گزشتہ ماہ پولیس نے جنتر منتر کو سرکاری طور پر مختص احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا تھا، حالانکہ یہ تاریخی مقام طویل عرصے سے دارالحکومت میں احتجاج کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
حکام کے مطابق سکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے جبکہ احتجاجی مقام اور اس کے اطراف 200 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے، ڈرونز اور باڈی کیمرے نصب کیے گئے۔
ووٹر فہرستوں کے جاری جائزے کے دوران گزشتہ سال سے اب تک 13 کروڑ سے زائد نام نکالے جا چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل سیاسی مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہے، جس سے مزید لاکھوں افراد حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، پر پڑا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ اپوزیشن جماعتوں اور کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کا مرکزی نعرہ بنا ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

الیکشن کمیشن اور مودی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نظرثانی کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دہرے اور نااہل اندراجات ختم کرنا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو کہا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی سے متعلق الزامات انڈیا میں مستقبل کے انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے ’سنگین سوالات‘ پیدا کرتے ہیں۔
تنظیم کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے ایک بیان میں کہا کہ حکام کو فوری طور پر ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل ختم کرنا چاہیے، کیونکہ اس نے انڈیا کے سب سے محروم طبقات کو ووٹ ڈالنے اور دیگر سرکاری خدمات تک رسائی سے محروم کر دیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اپوزیشن جماعتوں اور کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کا مرکزی نعرہ بنا ہوا ہے، جو مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو چیلنج کر رہے ہیں۔

کاکروچ تحریک کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں مودی کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

مودی نے ابھی تک ان احتجاجوں پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے مظاہرین کو ’انتشار پسند‘ قرار دیا ہے اور بغیر ثبوت پیش کیے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں غیر ملکی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔
جولائی میں نوجوانوں کی کاکروچ تحریک کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں مودی کے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، جسے 12 برس سے زائد عرصے سے اقتدار میں موجود مودی کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی دھچکا قرار دیا گیا۔ یہ تحریک اس موسمِ گرما میں ایک آن لائن طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جب انڈیا کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو ’طفیلیے‘ قرار دیا تھا۔

 

شیئر: