Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تھائی لینڈ: باکسنگ کا عالمی ٹائٹل پاکستانی باکسرعابدہ بتول نے اپنے نام کر لیا

عابدہ بتول نے پانچویں راؤنڈ میں تھائی حریف کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرکے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا (فوٹو: عابدہ بتول)
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خاتون باکسرعابدہ بتول نے تھائی لینڈ میں باکسنگ کا عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔
انہوں نے آٹھ راؤنڈز پر مشتمل مقابلے کے پانچویں راؤنڈ میں تھائی حریف کو ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرکے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
عابدہ بتول نے 31 اکتوبر کو تھائی لینڈ کے شہر پتایا میں ویمنز انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (ڈبلیو آئی بی اے) کے عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل کے لیے تھائی باکسر وانڈی سینونگ کھروٹ کا مقابلہ کیا۔ یہ فائٹ ایف سی سی سٹیڈیم میں بریو ہارٹس کے نام سے منعقد ہونے والے باکسنگ ایونٹ کا حصہ تھی۔
مقابلے کے دوران عابدہ بتول نے اپنی حریف کے مقابلے میں تیز رفتار، ہاتھوں اور پاؤں کی پھرتی اور مسلسل مکے برسانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور پانچویں راؤنڈ میں انہیں ٹیکنیکل ناک آؤٹ کر دیا۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے عالمی چیمپئن کا بیلٹ بھی حاصل کیا۔
عابدہ بتول کے پروموٹر اور سابق باکسر عابد بلوچ کے مطابق وہ ڈبلیو آئی بی اے کے عالمی ٹائٹل مقابلے میں حصہ لینے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ٹائٹل جیتنے سے عابدہ کی بین الاقوامی باکسنگ رینکنگ میں بھی بہتری آئے گی۔
عابد بلوچ کے مطابق یہ عابدہ بتول کی پروفیشنل باکسنگ میں دوسری بین الاقوامی فائٹ تھی جس میں انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔
عابدہ بتول نے یہ کامیابی تھائی لینڈ میں میزبان ملک کی باکسر کے خلاف حاصل کی۔ تھائی لینڈ کو باکسنگ کے ہلکے وزن کی کیٹیگریز میں مضبوط حریفوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
ایٹم ویٹ خواتین کی پروفیشنل باکسنگ کی سب سے ہلکی وزن کی کیٹیگری ہے جس میں باکسرز کا زیادہ سے زیادہ وزن 102 پاؤنڈ یعنی تقریباً 46.3 کلوگرام مقرر ہے۔ ویمنز انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن خواتین کی پروفیشنل باکسنگ میں عالمی ٹائٹل مقابلوں کرانے والا ادارہ ہے۔
عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد عابدہ بتول نے اپنے اہل خانہ، سپانسرز، کوچ شارق خان اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا۔

عابدہ بتول نے اپنے کھیل کے سفر کے بارے میں بتایا کہ باکسنگ کے دوران انہیں کئی مرتبہ چوٹیں آئیں (فوٹو: سکرین گریب)

باکسنگ کا سفر اور سابقہ کامیابیاں
عابدہ بتول نے اپنے باکسنگ کریئر کا آغاز 2018 میں کیا تھا۔ وہ اس پہلے پاکستان کی پروفیشنل باکسنگ کا قومی ٹائٹل بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔
باکسنگ میں آنے سے قبل وہ مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے)، ووشو اور کک باکسنگ کے مقابلوں میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈلز حاصل کر چکی ہیں۔
عابدہ بتول ووشو کے ایک بین الاقوامی مقابلے میں سری لنکا کی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل حاصل کر چکی ہیں جبکہ ایران میں بھی میڈل جیت چکی ہیں۔
عالمی ٹائٹل مقابلے سے قبل انہوں نے اسلام آباد میں ایک طویل تربیتی کیمپ میں حصہ لیا جہاں وہ روزانہ کئی گھنٹے مشق کرتی رہیں۔
خاندانی مخالفت اور مالی مشکلات سے عالمی چیمپئن بننے تک
اردو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عابدہ بتول نے اپنے کھیل کے سفر کے بارے میں بتایا کہ باکسنگ کے دوران انہیں کئی مرتبہ چوٹیں آئیں۔ ان کے ناخن زخمی ہوئے اور ماتھے پر بھی چوٹ لگی تاہم ان مشکلات نے انہیں مزید مضبوط بنایا۔

عابدہ بتول کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صرف لڑکے ہی باکسنگ جیسے کھیلوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں (فوٹو: عابدہ بتول)

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے مقصد کے حصول کے لیے سنجیدہ ہو تو اسے راستے میں آنے والی مشکلات اور چوٹوں سے گھبرانے کے بجائے آگے بڑھنا چاہیے۔
عابدہ بتول کے مطابق ابتدا میں ان کے گھر والے انہیں باکسنگ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اور انہیں اپنے والدین کو اس کھیل کے لیے مشکل سے قائل کرنا پڑا۔
ان کے بقول معاشرے میں لڑکیوں کے باکسنگ جیسے کھیل میں حصہ لینے کو زیادہ قبول نہیں کیا جاتا اور اسے صرف مردوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے لیکن انہوں نے اس سوچ کو غلط ثابت کیا۔
عابدہ بتول کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صرف لڑکے ہی باکسنگ جیسے کھیلوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لڑکیاں بھی محنت اور مواقع ملنے پر عالمی سطح پر کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔
عابدہ کو اپنے کیریئر کے دوران مالی مشکلات اور سپانسرشپ کی کمی کا بھی سامنا رہا، تاہم وقت کے ساتھ ان کے والدین نے ان کی حمایت شروع کر دی جس سے انہیں اپنے کھیل کو جاری رکھنے میں مدد ملی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ وہ روزانہ دو تربیتی سیشن کرتی ہیں اور صبح اور دوپہر کے اوقات میں دو، دو گھنٹے مشق کرکے خود کو مقابلوں کے لیے تیار کرتی ہیں۔

عابدہ کے پروموٹر عابد بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی پروفیشنل باکسنگ کا شعبہ ابھی محدود ہے (فوٹو: سکرین گریب)

ان کے مطابق باکسنگ میں کامیابی کے لیے جسمانی طاقت کے ساتھ ذہنی مضبوطی اور مستقل مزاجی بھی ضروری ہے۔
عابدہ بتول نے دوسری لڑکیوں کو پیغام دیا تھا کہ وہ اپنا دفاع کرنے کے لیے تربیت حاصل کریں، کھیلوں میں حصہ لیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے خود پر بھروسہ رکھیں۔
عابدہ کے پروموٹر عابد بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی پروفیشنل باکسنگ کا شعبہ ابھی محدود ہے۔ ایسے ماحول میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی عابدہ بتول کی عالمی ٹائٹل میں کامیابی ان کی برسوں کی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عابدہ کی یہ کامیابی پاکستان میں خواتین کی پروفیشنل باکسنگ کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہے اور ان لڑکیوں کے لیے مثال ہے جو محدود وسائل اور سماجی مشکلات کے باوجود کھیلوں میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہیں۔

 

شیئر: