پچھلے چند ہفتوں سے صدر ٹرمپ اپنے ہر جلسے میں ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کہ ’میں بیلٹ پیپر پر نہیں ہوں، مگر یوں سمجھو جیسے میں ہوں۔‘
کل یعنی منگل تین نومبر کو امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن ہو رہا ہے۔ ٹرمپ امیدوار نہیں اور ان کی صدارت جنوری 2029 تک چلنی ہے، مگر سچ پوچھیں تو یہ الیکشن انہی کے بارے میں ہے۔ ری پبلکن امیدوار ان کا ریکارڈ کندھے پر اٹھائے پھر رہے ہیں، ڈیموکریٹ ہر حلقے میں انہی کے خلاف ووٹ مانگ رہے ہیں اور خود ٹرمپ نے بھی اسے اپنی ذات پر ریفرنڈم بنا دیا ہے۔
ویسے امریکی تاریخ میں مڈ ٹرم الیکشن اکثر حکمران صدر کے لیے کڑوی گولی ثابت ہوا ہے۔ 1994 میں بل کلنٹن کی پارٹی 40 برس بعد ایوان نمائندگان سے محروم ہوئی۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ میں اعلیٰ فوجی جنرل کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا: میڈیاNode ID: 909898
2006 میں جارج بش کو ماننا پڑا کہ انہیں بری شکست ہوئی ہے۔ 2010 میں اوباما کی پارٹی 63 نشستیں ہاری، 2018 میں خود ٹرمپ اپنی پہلی مدت میں ہاؤس گنوا بیٹھے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس بار کیا ہوگا اور اس کے بعد ٹرمپ کیا کریں گے؟
یہ مڈٹرم الیکشن اتنا اہم کیوں ہے؟
منگل کو ایوان نمائندگان یعنی ہاؤس کی تمام 435 سیٹوں، سینیٹ کی 35 سیٹوں اور 36 ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب ہوگا۔ ہاؤس میں ری پبلکن پارٹی کو پچھلی بار معمولی سی برتری تھی مگر مڈٹرم میں ہاؤس ڈیموکریٹس کے پاس جا سکتا ہے۔
سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے پاس ترپن اور ڈیموکریٹس کے پاس 47 (45 جمع 2 آزاد) سیٹیں ہیں، یعنی ڈیموکریٹس کو اپنی تمام سیٹیں بچا کر چار نئی جیتنا ہوں گی۔ معاملہ 50، 50 پر رکا تو فیصلہ کن ووٹ نائب صدر جے ڈی وینس کا ہوگا۔
تاریخ اس بار بھی ٹرمپ کے خلاف ہے۔ گیلپ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ صدر کی مقبولیت 50 فیصد سے نیچے ہو تو اس کی جماعت اوسطاً چھتیس نشستیں ہارتی ہے، ٹرمپ کی مقبولیت اس وقت چالیس سے بھی نیچے ہے۔ پھر سینیٹر چھ برس کے لیے آتا ہے۔ ٹیکساس یا کنساس جیسی پکی ری پبلکن ریاست سے کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر بن گیا تو اس کا اثر 2032 تک رہے گا۔
ووٹر کا موڈ اچھا نہیں

اس الیکشن کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ امریکی معیشت کاغذ پر خاصی تگڑی ہے۔ تیسری سہ ماہی میں شرح نمو تین اعشاریہ چار فیصد رہی مگر عام امریکی کے لیے معاشی اعداد بیکار ہیں، اسے تو پیٹرول کا مہنگا ریٹ اور مارکیٹ کی مہنگائی نظر آتی ہے۔
مہنگائی بڑھ کر تین اعشاریہ چھ فیصد ہو گئی ہے اور ایران جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قومی اوسط قیمت سوا چار ڈالر فی گیلن سے اوپر ہے۔ وال سٹریٹ جرنل جیسے قدامت پسند اخبار نے بھی اپنے اداریے میں لکھا کہ ری پبلکنز کو اس کی سیاسی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایک تجزیے کے مطابق ہاؤس کا فیصلہ جن 46 کانٹے دار حلقوں سے ہوگا، وہاں ہر 10 میں سے چھ خاندان مکان، خوراک، علاج اور بچوں کی نگہداشت کا بنیادی خرچ پورا نہیں کر پا رہے۔ اسی رپورٹ میں ایک امریکی ماہر کا جملہ مجھے اہم لگا،: جب آپ تکلیف میں ہوں تو اس کے پاس واپس نہیں جاتے جس نے آپ کو تکلیف دی ہو۔
روئٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 32 فیصد ہے اور کانگریس کے لیے ڈیموکریٹس 11 پوائنٹ آگے ہیں۔ 12 برس میں پہلی بار امریکی عوام معیشت کے معاملے میں ڈیموکریٹس پر زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس بار 29 اکتوبر تک چار کروڑ 36 لاکھ امریکی پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ یہ ان کا جوش و خروش ظاہر کر رہا ہے۔ تاہم اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ امریکی ووٹر ڈیموکریٹس پر فدا ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی خود بھی غیر مقبول ہے اور کرپشن ووٹروں کی نظر میں ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ ووٹر ٹرمپ سے ناراض ضرور ہے مگر کسی ایک کیمپ میں بند نہیں۔ اسے قائل کیا جا سکتا ہے اور یہی بات اس الیکشن کو دلچسپ بناتی ہے۔
الیکشن کمپین کیسی رہی؟
ڈیموکریٹس نے اس بار وہی حربہ استعمال کیا جس سے ٹرمپ نے2024 میں انہیں ہرایا تھا، یعنی مہنگائی۔ امیدوار بھی مقامی مزاج کے ڈھونڈے گئے۔ ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو سابق سکول ٹیچر ہیں جو اپنے مسیحی عقیدے کی بات کرتے ہیں اور کنساس میں ایڈم ہیملٹن ایک بڑے چرچ کے پادری ہیں۔
دوسری طرف ری پبلکن مہم کا مرکز ٹرمپ کی ذات رہی۔ انہوں نے معروف ری پبلکن سرخ ریاستوں میں ریلیاں کیں، خبردار کیا کہ ڈیموکریٹ جیتے تو 1929 جیسی کساد بازاری آئے گی، اور وعدہ کیا کہ ری پبلکن جیتے تو ہر امریکی کی جیب میں پانچ ہزار ڈالر ہوں گے۔ یاد رہے کہ ری پبلکن پارٹی کا رنگ سرخ ہے، اس لیے جو ریاستیں روایتی طور پر ری پبلکن کا گڑھ ہیں انہیں ریڈ سٹیٹس یا سرخ ریاستیں کہا جاتا ہے۔
الیکشن کمپین کا سب سے تلخ رخ مشی گن میں سامنے آیا، جہاں مصری امیگرنٹ کے بیٹے عبدالسید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بن سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک جلسے میں کہا کہ وہ ایک ’جہادی، اخوان المسلمون کے رکن‘ کو سینیٹر بننے سے روکنے آئے ہیں، اور یہ کہ اسے سینیٹ میں داخل ہونے سے پہلے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا ہوگا۔ مجمع سے ’غدار‘ اور ’ملک بدر کرو‘ کے نعرے لگے، حالانکہ عبدالسید مشی گن ہی میں پیدا ہوئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کے اخوان سے کسی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں۔
اوہائیو میں گورنر کے امیدوار وویک راماسوامی بھی اپنی ہندوستانی نسل کی وجہ سے طعنوں کا نشانہ بنے۔ البتہ ان کی اپنی مہم نے حریف ایمی ایکٹن کی والدہ کو اشتہار میں لا کر ایسی حد پار کی کہ ری پبلکن گورنر مائیک ڈی وائن نے بھی اشتہار ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔ یوں یہ الیکشن امریکی سیاست میں مسلمانوں اور جنوبی ایشیائیوں کے مقام کا امتحان بھی بن گیا ہے۔
اس بار پیسہ بے پناہ چلا ہے۔ مڈ ٹرم میں اربوں ڈالر بہائے جا رہے ہیں۔ دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک نے اکیلے ری پبلکنز کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر دیے، جن میں سے 15 کروڑ 18 لاکھ ڈالر ری پبلکن سینیٹ امیدواروں کے سب سے بڑے فنڈ کو گئے۔ اس پر ڈیمو کریٹ امیدوار ٹالاریکو کا طنز تھا کہ ایک کھرب پتی اپنا ذاتی سینیٹر خریدنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ پر سخت طنزیہ جملے لبرل اور قدامت پسند دونوں طرف سے آ رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے حالیہ ایک اداریے کا عنوان رکھا: ٹرمپ ناکام ہو گئے، ان کا احتساب کرو۔ ادھر واشنگٹن ایگزامینر کے کالم نگار ٹم کارنی لکھتے ہیں کہ یہ سال ری پبلکنز کے لیے اچھا ہونا چاہیے تھا، مگر ٹرمپ کی کرپشن اور بلا اجازت ایران جنگ نے اسے برا بنا دیا۔
نیویارک ٹائمز ہی کی ایک رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اسی سالہ معمر ٹرمپ کی تقریریں پہلے سے زیادہ بے ربط ہو گئی ہیں، ایک ہی جلسے میں ایک ہی قصہ دو بار سنا دیتے ہیں۔
کانٹے دار مقابلے کہاں ہیں؟

امریکی انتخابی تجزیے کے معتبر ادارے کک پولیٹیکل رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی سات سیٹوں پر مقابلہ اس وقت تک برابر جا رہا ہے، ان میں سے چھ نشستیں ری پبلکن کی ہیں۔
الاسکا میں سابق رکن کانگریس میری پیلٹولا ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کو ٹکر دے رہی ہیں۔ ٹیکساس میں ٹالاریکو اور کین پیکسٹن برابر ہیں، حالانکہ وہاں سے 1988 کے بعد کوئی ڈیموکریٹ سینیٹ نہیں پہنچ پایا۔
ممکن ٹالا ریکو اس بار یہ کرشمہ کر دکھائیں۔ کنساس نے 1932 کے بعد کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر نہیں چنا، مگر ری پبلکن امیدوار راجر مارشل پر یہ انکشاف بھاری پڑا کہ ان کے ہسپتال نے 700 سے زیادہ مریضوں پر واجبات کے مقدمے کیے تھے۔ وہاں اب سخت مقابلہ ہے۔
اوہائیو میں شیروڈ براؤن اور جان ہسٹڈ آمنے سامنے ہیں، اور چونکہ یہ نائب صدر جے ڈی وینس کی خالی نشست کا خصوصی انتخاب ہے، اس لیے جیتنے والے کو صرف دو برس کے قریب ملیں گے۔ آئیووا میں پیرالمپکس کے گولڈ میڈلسٹ جوش ٹوریک اور ایشلی ہنسن کا مقابلہ برابر ہے۔
ریاست مین میں ہر بار بچ نکلنے والی ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو گراہم پلیٹنر کا سامنا ہے۔ سوزن کولنز کا یہ سٹائل ہے کہ وہ کئی حوالوں سے سخت گیر ری پبلکن حلقوں سے فاصلہ رکھتی ہیں اور معتدل ہونے کا تاثر دیتی ہیں۔ اس بار دیکھیں ان کا کیا بنتا ہے؟ساتواں اہم مقابلہ مشی گن میں عبدالسید اور ری پبلکن مائیک راجرز کا ہے، یہ ویسے ڈیموکریٹس کی اپنی نشست ہے۔
شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر کو واضح برتری حاصل سمجھی جا رہی ہے۔ گورنروں کے انتخاب میں جارجیا کی کیشا لانس باٹمز امریکہ کی پہلی منتخب سیاہ فام خاتون گورنر بن سکتی ہیں۔
سروے کیا کہتے ہیں؟

معتبر الیکشن مانیٹرنگ ادارے کک پولیٹیکل رپورٹ نے اپنے آخری تجزیے میں کہا ہے کہ ڈیموکریٹس ہاؤس کی 12 سے 25 نشستیں چھین سکتے ہیں، اور ان کی تعداد240 تک جا سکتی ہے جو 2009 کے بعد ڈیموکریٹس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
سینیٹ میں کک کا اندازہ ہے کہ ڈیموکریٹس دو سے چھ نشستیں حاصل کریں گے، اور اسی بنیاد پر اس نے انہیں’معمولی فیورٹ‘ قرار دیا ہے۔ مشہور انتخابی تجزیہ کار نیٹ سلور کے نزدیک ٹرمپ کا برا دن آیا تو وہ 2006 کے بش کی طرح باقی دو برس ایک بے اثر صدر کے طور پر گزاریں گے۔
ویسے آخری دنوں میں دونوں کیمپ محتاط ہو گئے ہیں۔ ڈیموکریٹس اپنی توقعات کچھ کم کر رہے ہیں، اور جے ڈی وینس اپنے حامیوں سے کہہ رہے ہیں کہ سرویز بھول جاؤ اور یوں دوڑو جیسے ہم پیچھے ہوں۔
میرا اندازہ ہے کہ ہاؤس ڈیموکریٹس کی طرف جاتا نظر آتا ہے، جبکہ سینیٹ میں سخت مقابلہ ہے، اگرچہ کسی حد تک جھکاؤ ڈیموکریٹس کی طرف ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ انہیں صرف 50 سیٹیں نہیں جیتنا بلکہ کم از کم 51 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ حتمی نتائج میں دن بھی لگ سکتے ہیں، کیونکہ کیلیفورنیا میں ڈاک کے ووٹ گنے جائیں گے اور الاسکا میں اگر ترجیحی ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ آیا تو فیصلہ 18 نومبر تک مؤخر ہو سکتا ہے۔
اس الیکشن کے حوالے سے ممکنہ تین چار منظرنامے یہ ہو سکتے ہیں:
پہلا منظرنامہ
ری پبلکن سب کچھ بچا لیں یعنی ہاؤس اور سینیٹ دونوں میں اکثریت مل جائے۔ یہ ٹرمپ کی سیاسی زندگی کی ایک اور حیران کن واپسی ہوگی۔ وہ اسے اپنی پالیسیوں کی عوامی توثیق کہیں گے۔ پارٹی میں اختلاف کی رہی سہی گنجائش ختم ہو جائے گی، اور 2028 کے ری پبلکن امیدوار کا فیصلہ عملاً انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔
دوسرا منظرنامہ
ہاؤس ڈیموکریٹس کا، سینیٹ ری پبلکنز کی۔ اس صورت میں ہاؤس کی کمیٹیوں کو طلبی کا اختیار مل جائے گا، اور فروری سے ہی ٹرمپ انتظامیہ اور ٹرمپ خاندان کے کاروبار کی تحقیقات شروع ہو سکتی ہیں۔ ہر بجٹ ایک لڑائی بنے گا اور حکومتی بندش کا خطرہ بڑھے گا۔ ہاؤس سادہ اکثریت سے ٹرمپ کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے، مگر عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ کے 66 ووٹ چاہییں، جو ممکن نہیں۔ دوسری طرف ری پبلکن سینیٹ ججوں اور وزرا کی تقرریاں منظور کرتی رہے گی۔ یوں ٹرمپ کمزور ضرور ہوں گے، بے بس نہیں۔
تیسرا منظرنامہ
نیلی لہر دونوں ایوان بہا لے جائے یعنی ڈیموکریٹس ہاؤس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیں۔ یاد رہے کہ نیلا ڈیمو کریٹ پارٹی کا رنگ ہے۔ یہ ٹرمپ کے لیے سب سے مشکل صورت ہوگی۔ سینیٹ ان کے ججوں اور وزرا کا راستہ روک سکے گی، اور سپریم کورٹ میں کوئی نشست خالی ہوئی تو وہ اپنی مرضی کا جج نہیں لا سکیں گے۔
مگر ٹرمپ ہر ڈیموکریٹ قانون ویٹو کر سکتے ہیں، اور ویٹو توڑنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی ووٹ چاہییں جو کسی لہر میں بھی ممکن نہیں لگتے۔ پھر ڈیموکریٹس کا اپنا امتحان شروع ہوگا۔ امریکی تجزیہ کار روئی ٹیشیرا خبردار کرتے ہیں کہ بڑی کامیابی کا نشہ ڈیموکریٹس کو یہ بھلا دے گا کہ ووٹ ری پبلکنز کے خلاف پڑا تھا، ان کے حق میں نہیں۔
ہار کر ٹرمپ کیا کریں گے؟













