ایران جنگ پر امریکہ کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے: پینٹاگون
ایران جنگ پر امریکہ کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے: پینٹاگون
بدھ 28 اکتوبر 2026 10:03
تازہ تخمینہ وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے 37.5 ارب ڈالر کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہے: فائل فوٹو روئٹرز
امریکی محکمۂ جنگ کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر اب تک 47 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اخراجات جولائی میں پینٹاگون کے لگائے گئے تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔
پینٹاگون نے جنگ کے اخراجات سے متعلق تازہ تخمینے پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا اور یہ تخمینہ اب تک عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا تھا۔
جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب ریپبلکن پارٹی کو تین نومبر کے انتخابات سے قبل اس غیر مقبول جنگ کے سیاسی اثرات کا سامنا ہے۔
ان انتخابات سے اگلے دو برس کے لیے امریکی کانگریس میں اکثریت کا فیصلہ ہوگا۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کو متاثر کیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ اس وقت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔
پینٹاگون کے تازہ تخمینے میں جنگی کارروائیوں کے اخراجات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار خریدنے کے لیے 29 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔
فوجی سازوسامان کی تبدیلی اور جنگ میں تباہ ہونے والے طیاروں سمیت دیگر فوجی پلیٹ فارمز کے نقصانات پورے کرنے کے لیے بھی چھ ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی۔ ان نقصانات میں جنگ کے دوران تباہ یا ضائع ہونے والے متعدد ڈرون بھی شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور اس وقت پیش گوئی کی تھی کہ یہ تنازع مختصر عرصے میں ختم ہو جائے گا۔
ایران جنگ کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے: فوٹو روئٹرز
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ٹرمپ کی حکمت عملی یہ تھی کہ ایران کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے لیے پہلے مہنگے اور جدید درست نشانہ لگانے والے میزائل استعمال کیے جائیں، تاکہ بعد میں نسبتاً سستے ہتھیار، بشمول فضا سے گرائے جانے والے جے ڈی اے ایم بم، استعمال کیے جا سکیں۔ امریکی فوج کے پاس ایسے بموں کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
تاہم اپریل میں ہونے والی جنگ بندی سے ایران کو اپنی زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں سے ملبہ ہٹانے اور بعض دفاعی نظام، میزائلوں اور ڈرونز کو دوبارہ فعال کرنے کا موقع ملا، جو اس سے پہلے ناقابلِ رسائی ہو چکے تھے۔
اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی روکنے کے لیے اس کی بحری ناکہ بندی کر دی۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون کو حکم ملنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
پینٹاگون کا تازہ تخمینہ وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے جولائی میں بتائے گئے 37.5 ارب ڈالر کے جنگی اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔
ان اخراجات میں فضائی کارروائیوں سے لے کر سائبر معاونت تک مختلف مدات شامل ہیں، تاہم امریکی فوج کے تخمینے میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت پر آنے والے بھاری اخراجات واضح طور پر شامل نہیں کیے گئے۔