Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبی گزر گاہوں کا تحفظ ’مشترکہ ذمہ داری‘ ہے: سعودی ڈپٹی چیف آف سٹاف

آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا فوجی دباؤ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
سعودی ڈپٹی چیف آف سٹاف وائس ایڈمرل فہد الغفیلی نے سٹریٹیجک آبی گزر گاہوں کے تحفظ کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا فوجی دباؤ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
بحرین میں اتوار کو منامہ ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے سمندری خطرات سے نمٹنے کے لیے موثر اجتماعی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آبی گزرگاہوں کا تحفظ ایک مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا ’میری ٹائم سکیورٹی کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں ہے۔ طاقت، قانون کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ بین الاقوامی آبی گزر گاہوں کو سیاسی اور فوجی دباؤ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ سمندروں کو کمیونیکیشن اور خوشحالی کا ذریعہ بننا چاہیے نہ کہ تنازعات کا میدان۔‘
انہوں نے زور دیا کہ آبی گزر گاہوں کو لاحق خطرات دنیا بھر کے ممالک کو متاثر کرتے ہیں اور یہ ایک بین الاقوامی چیلنج بن چکے ہیں۔
گزشتہ روز منامہ ڈائیلاگ میں ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سعودی نائب وزیر خارجہ انجینیئر ولید الخریجی نے علاقائی تنازعات، بڑھتے ہوئے انسانی مصائب، بحری سکیورٹی، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی معیشت پر بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان بحرانوں پر قابو پانے، سکیورٹی اور استحکام کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
 علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے سنیچر کو اٹلانٹا میں جرمنی، فرانس، جاپان اور برازیل کے ہم منصبوں نے ملاقات کی ہے۔

 ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال خصوصا میری ٹائم سکیورٹی اور بین الاقوامی تجارت کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کو درپیش خطرات، انرجی سکیورٹی، بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چینز پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے آبی گرر گاہوں کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

شیئر: