Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پر پھیلائے شاہین اور تیرتی مچھلی کا گمان، مکہ کے ساحلی جزائر کے دلکش مناظر

یہ مناظر انسانی تخیل کو ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ ریجن کے ساحلی علاقوں کے فضائی مناظر میں قدرت کے ایسے شاہکار نظر آتے ہیں جو انسانی تخیل کو ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
ان مناظر میں کہیں پانی میں تیرتی ہوئی مچھلی کی شکل نظر آتی ہے تو کہیں موجود چٹانوں کو دیکھنے سے سمندر کے اوپر شاہین کے پھیلے ہوئے پروں کا گمان ہوتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں ایسے اچھوتے مناظر کو محفوظ کیا ہے جہاں ساحل کے بل کھاتے راستے سمندر کے مختلف رنگوں سے ملتے ہیں۔ کہیں ریتیلے اور چٹانی سرے سمندر میں دور تک پھیلے ہوئے ہیں توکہیں خشکی کے پھیلاؤ کے درمیان چھوٹی چھوٹی خوبصورت خلیج بل کھاتی نظر آتی ہے۔
مکہ ریجن کے ساحلی علاقے میں کئی جزیرے بکھرے ہوئے ہیں ان میں ’جبل اللیث‘  شامل ہے جو شفاف پانی اور غوطہ خوری کے شوقین افراد کا پسندیدہ مقام ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔
اسی طرح ’مرمر‘ جزیرہ اپنے متنوع ماحولیاتی اور سمندری نظام کے لیے جانا جاتا ہے جبکہ راس محیسن کے ساحل کے سامنے مرکز ’دوقہ‘ کے مغرب میں مرجانی ’شغیب‘ جزیرہ واقع ہے۔

اس کے علاوہ ’ام القماری البرانیہ اور ام القماری الفوقانیہ‘ جزیرے بھی قابلِ ذکر ہیں جو ام القماری جزائر کے محفوظ علاقے کا حصہ ہیں۔ ان جزیروں کا نام  وہاں پائے جانے والے جنگلی کبوتروں کی کثرت کی وجہ سے رکھا گیا ہے جو اس ساحلی منظر نامے کی قدرتی بناوٹ اور جنگلی حیات کے تنوع کو اجاگر کرتے ہیں۔
ایک منظر میں خشکی کی لمبی ساخت اور اس کے ایک نسبتا تنگ سرے نے پانی میں موجود مچھلی کی شکل کا گمان پیدا کیا۔ اس کے کناروں کو دیکھنے میں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کسی جاندار کے جسم کی بل کھاتی ساخت ہو جبکہ اطراف میں پھیلے ہوئے حصے اس تاثر کو مزید مکمل کرتے ہیں۔
ایک اور منظر میں خشکی کے پھیلے ہوئے حصوں نے پروں کو پھیلائے ہوئے شاہین کی تصویر بنا رکھی ہے۔ فضائی منظر دیکھنے پر یہ ساخت ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی پرندہ اڑان بھرتے ہوئے وہیں تھم گیا ہو۔

ساحلی کناروں کو فیروزی پانی نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا جو کچھ فاصلے پر گہرے نیلے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔ رنگوں کے اس فرق نے خشکی کی حدود کو مزید نمایاں کر دیا اور باریک ابھاروں سے لے کر وسیع تر حصوں تک اس کی تفصیلات کو نمایاں کرنے میں مدد دی۔
سطح پر ریت اور چٹانوں کے مختلف رنگ نمایاں تھے جبکہ مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے گہرے دھبوں نے منظر کے بصری تاثر میں مزید گہرائی پیدا کر دی۔

ساحل کی خم دار ساختوں میں کہیں پانی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے محرابیں نظر آئیں تو کہیں خشکی کے ایسے سرے جو سمندر کی جانب بڑھتے محسوس ہوئے اور کہیں ایسے گہرے گوشے جنہوں نے ساحل کے ہر حصے کو جدا شکل دی۔ یہ ایسی تفصیلات ہیں جنہیں ساحل کی سطح سے ایک ہی نظر میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے مگر فضائی منظر نے انہیں ایک مکمل اور مربوط تصویر کا رخ دے دیا۔
قدرت کا یہ تنوع ساحلی سیاحت کے ان اہم اثاثوں میں سے ایک ہے جسے سعودی ریڈ سی اتھارٹی سمندری اور ساحلی سیاحتی سرگرمیوں کو منظم  کرکے فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔

 

شیئر: