Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پہلی بیوی کے الزامات اور مسٹر پتلو کی بھگدڑ کیس میں فیلڈ مارشل سے انصاف کی اپیل

مبینہ پہلی اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی شادی 10 نومبر 2021 کو انصر جٹ المعروف ’مسٹر پتلو‘ سے ہوئی تھی۔(فوٹو:انسٹاگرام)
سیالکوٹ میں شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر ’مسٹر پتلو‘ کی مبینہ پہلی اہلیہ بھی سامنے آگئی ہیں، جنہوں نے ٹک ٹاکر پر شادی کے چار سال بعد طلاق، تشدد اور نجی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیوں کے الزامات لگائے ہیں۔
مبینہ پہلی اہلیہ نے سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان کی شادی 10 نومبر 2021 کو انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو سے ہوئی تھی اور یہ رشتہ تقریباً چار سال قائم رہا۔ 
ان کے مطابق ’یہ محض کاغذی شادی نہیں بلکہ باقاعدہ ازدواجی رشتہ تھا۔‘
خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسٹر پتلو کا اس وقت ساتھ دیا جب وہ مالی مشکلات کا شکار تھے، تاہم ’شہرت اور دولت ملنے کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے دوسری خواتین سے تعلقات قائم کرنا شروع کر دیے۔‘
ان کے بقول جب انہوں نے سوشل میڈیا پر شادی ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تو ’انہیں ڈانٹ ڈپٹ اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘ 
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر پتلو نے دھمکی دی تھی کہ اگر شادی اور طلاق کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی گئی تو ’دونوں کی نجی ویڈیوز لیک کرکے ان کے اہل خانہ کو بھی بھیج دی جائیں گی۔‘
خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ ’مسٹر پتلو نے انہیں طلاق کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا‘ اور وہ دوسری خواتین سے تعلقات قائم کرتے رہے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے سامنے آئی ہیں تاکہ ’دوسری لڑکیاں ایسے تجربے سے محفوظ رہ سکیں۔‘
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسٹر پتلو کی شادی کی تقریبات پہلے ہی سیالکوٹ کے المناک واقعے کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 اکتوبر کو ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مہندی اور انعامات کی تقسیم کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچ گئی۔ 
ابتدا میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 14 زخمی ہوئے، تاہم بعد ازاں ایک اور زخمی دم توڑ گیا، جس سے ہلاکتیں دو ہوگئیں۔ پولیس کے مطابق زخمیوں کی تعداد 18 ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر موٹر سائیکلوں اور ایک کار سمیت قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ گراؤنڈ کے باہر جمع ہوگئے۔ 
ابتدائی تحقیقات کے مطابق لاؤڈ سپیکر پر شرکا کو بیک وقت اندر داخل ہونے کا کہا گیا، جس سے بھگدڑ مچی۔
سیالکوٹ پولیس نے مسٹر پتلو، ان کے بھائی اور دیگر منتظمین سمیت 53 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جن میں 45 سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔ پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مسٹر پتلو کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

مسٹر پتلو کا مؤقف

ایک ویڈیو بیان میں مسٹر پتلو نے کہا کہ انہوں نے تقریب کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت لی تھی اور یہ ایک غیر متوقع حادثہ تھا۔ 
ان کا دعویٰ ہے کہ طبیعت خراب ہے اور کمر پر چوٹ کے باعث وہ پولیس کے سامنے پیش نہیں ہو پا رہے۔
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض بااثر افراد نے پہلے ان سے تعلقات رکھے لیکن مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل بھی کی۔
تاہم سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ حکام کے مطابق تقریب کے لیے جاری کیا گیا این او سی شرائط کی خلاف ورزی پر پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ 
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریب کا وقت نمازِ عشا کے بعد مقرر تھا، لیکن منتظمین کی جانب سے شام چار بجے ہی انتظامات اور سرگرمیاں شروع کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

شیئر: