Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی وسط مدتی انتخابات آج، کانگریس پر کنٹرول کی سیاسی کشمکش عروج پر

صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کی آخری تاریخ واشنگٹن میں لنکن میموریل کے سامنے تالاب کی دوبارہ افتتاحی تقریب میں کی (فوٹو: اے پی)
امریکہ میں آج وسط مدتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ امیدواروں نے پیر کو اپنے ووٹرز کو قائل کرنے کی آخری کوششیں کیں جبکہ مشی گن میں انتخابی کشیدگی عروج پر رہی جہاں عبدل السید میدان میں ہیں اور سینیٹ کے لیے پہلے مسلمان کے طور پر منتخب ہونے کے لیے کوشاں ہیں۔
دوسری جانب کیلیفورنیا میں سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوشش مسترد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آج امریکی ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے تاہم سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا ان کے لیے زیادہ مشکل لگ رہا ہے۔
کانگریس کے کسی بھی ایوان کا کنٹرول کھونے سے ٹرمپ کے لیے قانون سازی مشکل ہو جائے گی اور ڈیموکریٹس کو ان کی حکومت کے معاملات کی تحقیقات کا اختیار مل جائے گا۔ اگر ڈیموکریٹس سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو سپریم کورٹ سمیت وفاقی عدالتوں میں ٹرمپ کے نامزد کردہ ججوں کی منظوری بھی روکی جا سکتی ہے۔
پیر کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں کیلیفورنیا کو 20 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کی گنتی سے عارضی طور پر روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔
وفاقی حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ ووٹر ممکنہ طور پر امریکی شہری نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فوری فیصلہ سنایا۔

ماہرین کے مطابق کانگریس کے کسی بھی ایوان کا کنٹرول کھونے سے ٹرمپ کے لیے قانون سازی مشکل ہو جائے گی (فوٹو:اے ایف پی)

کیلیفورنیا حکومت کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت کا مقدمہ مبہم الزامات کی بنیاد پر 20 ہزار ووٹرز کو ووٹ کے حق سے محروم کر سکتا ہے اور غیرملکی شہریوں کی شناخت کا طریقہ بھی غلطیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ 
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 80 سال کے صدر ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور پچھلے 32 دنوں کے دوران 20 ریاستوں میں انتخابی جلسے کیے۔
انہوں نے آخری تقریر واشنگٹن میں لنکن میموریل کے سامنے تالاب کی دوبارہ افتتاحی تقریب میں کی۔
انہوں نے اپنی 20 منٹ کی زائد تقریر میں پانی کی پائپ لائنز، ان کی مرمت، پتھروں کی صفائی، تالاب کی تہہ پر گرینائٹ کی نئی تہہ بچھانے، کائی اور پانی کے رساؤ جیسے مسائل پر بات کی۔

آج ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس واشنگٹن کے لیے کئی بڑے منصوبے ہیں لیکن ان کی تفصیل بتانے کے لیے وقت کم ہے۔
انہوں نے انتخابات کا مختصر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالتے وقت یاد رکھیں کہ امریکہ سے نفرت کرنے والی جماعت کو ملک بنانے والوں پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
روئٹرز اور اِپسوس کی جانب سے پیر کو مکمل کیے جانے والے سرویز کے مطابق 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ وہ کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیں گے جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔

مشی گن کی صورت حال اور ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید

مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید سینیٹ کے لیے میدان میں ہیں اگر وہ منتخب ہو جاتے ہیں وہ سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن ہوں گے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور ماضی میں محکمہ صحت میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہے۔

مشی گن میں پیدا ہونے والے مصری نژاد عبدل السید کو ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے میں پچھلے ویک اینڈ پر اس وقت مزید تیزی آئی جب امریکی ایوان نمائندگان کی رکن ہیلی سٹیونز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں عبدل السید سے شکست کے بعد ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا۔
اس کے بعد عبدل السید کی انتخابی مہم کی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ اتوار کو انہیں 24 لاکھ ڈالر چندے میں ملے، جو ایک دن میں جمع ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس رقم کا بڑا حصہ عام شہریوں کے چھوٹے عطیات پر مشتمل تھا۔
مشی گن اسمبلی کے رکن العباس فرحت کا کہنا ہے کہ ہیلی سٹیونز کی جانب سے ریپبلکن امیدوار کی حمایت سے ڈیموکریٹ ووٹرز مزید متحرک ہوں گے اور عرب امریکیوں کی اکثریت رکھنے والے شہر ڈیئربورن کا حوالہ دیا۔
مشی گن میں پیدا ہونے والے مصری نژاد عبدل السید کو ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
انہوں نے ان کی امریکہ سے وفاداری پر سوال اٹھائے اور بغیر کسی ثبوت کے انہیں ’دہشت گردوں کا ہمدرد‘ قرار دیا۔
دوسری جانب عبدل السید نے امریکہ سے وفاداری پر سوال اٹھائے جانے کو شرمناک قرار دیا۔

شیئر: