Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایئرکنڈیشنڈ ملک‘ سنگاپور اب ٹھنڈک کے نئے طریقے کیوں اپنا رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق سنگاپور میں روایتی ایئرکنڈیشنرز کے عادی افراد کو نئے طریقوں کو اپنانے میں وقت لگ سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سنگاپور کو طویل عرصے سے ’ایئرکنڈیشنڈ ملک‘ کہا جاتا ہے لیکن اب وہاں بجلی زیادہ استعمال کرنے والے ایئرکنڈیشنرز کا متبادل تلاش کیا جا رہا ہے۔
اس مقصد کے لیے ٹھنڈے پانی، چھت پر نصب کولنگ پینلز اور قدرتی ہوا کی گردش سے عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے طریقے آزمائے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں سنگاپور میں فی کس ایئرکنڈیشنر کا استعمال سب سے زیادہ ہے اور ملک کے تقریباً 99 فیصد نجی گھروں میں ایئرکنڈیشنر موجود ہیں۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق عمارتوں کا شعبہ سنگاپور کے مجموعی کاربن اخراج میں پانچواں حصہ ڈالتا ہے جبکہ عمارتوں میں استعمال ہونے والی توانائی کا 40 سے 60 فیصد حصہ ٹھنڈک پر خرچ ہوتا ہے۔
سنگاپور کی مشہور آرچرڈ روڈ پر دکانوں کے دروازے کھلتے ہی ٹھنڈی ہوا سڑک تک پہنچتی ہے۔ یہ خریداروں کے لیے کشش کا باعث ہے کیونکہ وہاں سال بھر دن کا درجہ حرارت 31 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔
تاہم ایئرکنڈیشنر خود بھی گرمی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے کمپریسر گرم ہوا باہر خارج کرتے ہیں جبکہ انہیں چلانے کے لیے فوسل فیولز سے پیدا ہونے والی بجلی ماحولیاتی تبدیلی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
ٹھنڈک کے نئے طریقے

لوگ ٹھنڈے دفاتر میں کام کرنے کے عادی ہیں، اس لیے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کو قبول کرنے کے لیے سوچ میں تبدیلی ضروری ہے (فوٹو: پکسابے)

سنگاپور کی بعض عمارتوں میں اب روایتی ایئرکنڈیشننگ کے بجائے ’ایکٹیو چلڈ بیمز‘ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس نظام میں چھت پر خاص پینلز نصب ہوتے ہیں جن کے اندر ٹھنڈا پانی گردش کرتا ہے۔
عمارت کی چھت پر نصب کولنگ پلانٹ پانی کو نو ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کرکے ان پینلز تک پہنچاتا ہے۔ پینلز سے گزرنے والی ہوا کمرے کی گرم ہوا کو کھینچتی ہے جو ٹھنڈی ہو کر دوبارہ کمرے میں پھیل جاتی ہے۔
سنگاپور کے مشرقی علاقے میں واقع آٹھ منزلہ عمارت ’پایا لیبار گرین‘ میں اسی نظام کے ذریعے دفاتر کا درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھا جاتا ہے۔
چھت پر نصب سفید پینلز سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے اور روایتی ایئرکنڈیشنرز کے برعکس اس نظام میں مسلسل شور بھی نہیں ہوتا۔
عمارت میں کام کرنے والی 30 سالہ رینوگا شیکر نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں چھت پر نظر آنے والے پائپ اور پینلز کسی گودام کا حصہ لگتے تھے۔ کئی ماہ بعد انہیں معلوم ہوا کہ دفتر میں روایتی ایئرکنڈیشننگ کے بجائے ایک مختلف نظام استعمال ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ نظام اتنی خاموشی سے کام کرتا ہے کہ انہیں طویل عرصے تک اس فرق کا احساس ہی نہیں ہوا۔
عمارت کے ڈیزائنرز ڈی پی آرکیٹیکٹس کے مطابق اس نظام سے روایتی ایئرکنڈیشننگ کے مقابلے میں بجلی کی کھپت 30 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے۔
سنگاپور کی مغربی بندرگاہ توآس میں ایک اور طریقے کے تحت چھت پر نصب کوائلز ہوا کو ٹھنڈا کرتی ہیں۔
ٹھنڈی ہوا نیچے آتی ہے، کمرے کی حرارت جذب کرکے دوبارہ اوپر اٹھتی ہے اور پھر ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ اس قدرتی گردش سے پنکھوں کی ضرورت کم پڑتی ہے، جس سے بجلی اور شور دونوں میں کمی آتی ہے۔
ایک اور متبادل ’ریڈیئنٹ کولنگ‘ ہے جس میں 14 سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا پانی پائپوں یا پینلز میں گردش کرتا ہے۔
یہ نظام لوگوں اور اشیا سے خارج ہونے والی حرارت جذب کرکے کمرے کا درجہ حرارت کم کرتا ہے۔
لوگوں کی عادت بدلنا بھی چیلنج

جنوب مشرقی ایشیا میں سنگاپور میں فی کس ایئرکنڈیشنر کا استعمال سب سے زیادہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سنگاپور میں ان متبادل طریقوں کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ 2024 کی ایک سرکاری تحقیق کے مطابق ان ٹیکنالوجیز سے توانائی کی کھپت 48 فیصد تک کم کی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق 2026 کے وسط تک کم از کم 33 سرکاری اور 14 نجی عمارتوں میں یہ نظام نصب کیے جا چکے تھے۔ سنگاپور نے 2050 تک کاربن کے خالص اخراج کو صفر کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
تاہم ان ٹیکنالوجیز کا استعمال ابھی محدود ہے۔ ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہے کہ لوگ روایتی ایئرکنڈیشنرز کے عادی ہیں اور نئے طریقوں کو اپنانے میں وقت لگ سکتا ہے۔
متبادل نظام نصب کرنے کی لاگت روایتی ایئرکنڈیشنرز سے زیادہ ہے لیکن ان کے حامیوں کے مطابق بجلی کی بچت کے باعث طویل مدت میں یہ خرچ پورا ہو جاتا ہے۔
فی الحال سب سے زیادہ مقبول طریقہ ’ہائبرڈ کولنگ‘ ہے جس میں ایئرکنڈیشنر کا درجہ حرارت بڑھا کر 25.5 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے اور ساتھ پنکھے بھی چلائے جاتے ہیں۔
ڈی پی آرکیٹیکٹس کے ڈائریکٹر چوا زی جون کا کہنا ہے کہ لوگ ٹھنڈے دفاتر میں کام کرنے کے عادی ہیں، اس لیے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کو قبول کرنے کے لیے سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سنگاپور سمیت دنیا کے کئی حصوں میں گرمی اور نمی بڑھ رہی ہے جس سے ٹھنڈک کی طلب بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
روایتی ایئرکنڈیشنرز ریفریجرنٹس کے ذریعے ایک جگہ کی حرارت دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ متبادل نظام بھی اسی بنیادی اصول پر کام کرتے ہیں لیکن ان میں کم توانائی استعمال کی جاتی ہے یا لوگوں کو نسبتاً زیادہ درجہ حرارت پر رہنے کا عادی بنا کر ایئرکنڈیشنر کا استعمال کم کیا جاتا ہے۔
نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے کولنگ ٹیکنالوجی کے ماہر وان مین پن کے مطابق یہ نئے طریقے درست سمت میں پیش رفت ہیں۔ مستقبل میں خودکار نظام کمروں کے زیادہ گرم یا ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی درجہ حرارت کو ایڈجسٹ کر سکیں گے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی متبادل طریقہ توانائی کی کارکردگی میں روایتی ایئرکنڈیشننگ نظام سے بہتر ثابت نہیں ہوا۔

 

شیئر: