Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کا خاتمہ، گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے: سربراہ ایرانی مذاکرات کار

28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے (فوٹو: روئٹرز)
 ایران کی پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ روکنے سے متعلق معاملے پر اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو ایرانی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے یہ بھی کہا کہ خطے کے ممالک پوری طرح جان لیں کہ ایران جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس نے امریکہ کو ایک مضبوط اور منطقی جواب بھی دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ روکنے کے معاملے پر اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے یعنی اس حوالے سے فیصلہ اس کی ذمہ داری ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ ابھی تک جاری ہے اور آج بھی آبنائے ہرمز میں امریکہ نے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ ثالثوں کی مدد سے فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔
ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ایران اس کے خلاف امریکی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ڈیل کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘
اس سے تھوڑی دیر قبل اسی روز ہی انہوں نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کو بالآخر ’سخت کارروائی‘ کرنا پڑے گی۔
اس کے جواب میں ایران نے خبردار کیا تھا کہ دوبارہ چھڑنے والی جنگ پچھلی سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔ 

شیئر: