Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جانوروں کے چارے، ادویات اور کاسمیٹکس کے اجزا کے لیے مائیکرو ایلجی اگانے کا سعودی منصوبہ

سعودی ادارہ مائیکرو ایلجی اگانے کی ٹیکنالوجیز کھلے اور بند نظاموں کے ذریعے تیار کر رہا ہے (فوٹو: ایس ڈبلیو اے ویب سائٹ)
سعودی واٹر اتھارٹی نے واٹر ٹیکنالوجیز انوویشن انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ ایڈوانسمنٹس کے ذریعے ڈی سیلینیشن برائن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا استعمال کرتے ہوئے مائیکرو ایلجی اگانے کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ڈی سیلینیشن کی بائی پروڈکٹس کو معاشی صلاحیت کی حامل قیمتی بائیو پر مبنی پروڈکٹس میں بدلنا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس منصوبے کے تحت جانوروں اور مچھلیوں کا چارہ تیار کرنے کے لیے سالانہ 60 ٹن مائیکرو ایلجی پیدا کرنا ہے۔ اس کا مقصد ادویات اور کاسمیٹکس کے استعمال کے لیے ہر سال آٹھ ہزار کیوبک میٹر بائیو فرٹیلائزر اور 20 کلوگرام مواد پیدا کرنا بھی ہے۔
یہ نتائج پروڈکٹس میں تنوع لانے، ڈی سیلینیشن کی بائی پروڈکٹس کی معاشی قدر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے اور سرکولر اکانومی کی ایپلی کیشنز میں مدد دیں گے۔
واٹر ٹیکنالوجیز انوویشن انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ ایڈوانسمنٹس مائیکرو ایلجی اگانے کی ٹیکنالوجیز کھلے اور بند نظاموں کے ذریعے تیار کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پیداواری عمل میں ڈی سیلینیشن برائن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ممکنہ استعمال اور ان کی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ کام کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے والے حل تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اس منصوبے میں رابغ کی واٹر انوویشن اوئیسس میں مائیکرو ایلجی اگانے کے لیے ایک مکمل ماحول قائم کرنے کی تیاریاں بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مائیکرو ایلجی اگانے کی تکنیکی کارکردگی اور معاشی افادیت کا جائزہ لینا ہے۔ یہ پیداوار کو بڑھانے اور مستقبل کی صنعتی ایپلی کیشنز کو فروغ دینے کے مواقع کی بھی نشاندہی کرے گا۔
یہ منصوبہ سعودی واٹر اتھارٹی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو ڈی سیلینیشن کی بائی پروڈکٹس کے روایتی استعمال سے ہٹ کر انہیں معاشی طور پر قیمتی وسائل میں بدلیں۔
ان کوششوں کا مقصد بائیو پر مبنی صنعتوں کی مقامی سطح پر منتقلی کی حمایت کرنا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ماحولیاتی پائیداری و وسائل کے استعمال کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوششیں سعودی وژن 2030 کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہیں۔

 

شیئر: