Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیشا لینس باٹمز امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بن گئیں

کیشا لانس باٹمز جو بائیڈن دور میں ایک انتظامی آفس کی ڈائریکٹر بھی رہیں (فوٹو: انسٹاگرام، کیشا لانس باٹمز)صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے زیرانتظام دفتر برائے عوامی رابطہ کی ڈائریکٹر بنیں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار اور اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے جارجیا کی گورنرشپ کا مقابل جیت لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی نیوز چینلز سی این این اور این بی سی نیوز کی ان کی جیت کا اعلان کیا، جس کے بعد وہ ملک کی کسی بھی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔
کیشا لانس باٹمز ریپبلکن امیدوار اور ارب پتی کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دی جو کہ ایک بڑے کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں۔
موجودہ ریپبلکن گورنر برائن کیمپ اپنی مدت کی حد پوری ہونے کے باعث دوبارہ انتخاب نہیں لڑ سکے تھے۔
کیشا لانس باٹمز کی کامیابی کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد جارجیا میں گورنر کا عہدہ دوبارہ ڈیموکریٹس کے پاس آ گیا ہے۔
اس نتیجے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے جولائی میں رک جیکسن کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور ان کی انتخابی مہم کے دوران ان کے ہمراہ اٹلانٹا میں متعدد جلسے بھی کیے تھے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اکتوبر کے آخر میں جارجیا میں باٹمز کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسہ کیا تھا۔
علاوہ ازیں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف نے دوسری بار الیکشن جیت لیا ہے، انہوں نے ریپبلکن رکن کانگریس مائیک کولنز کو شکست دی۔
اس نتیجے سے جارجیا کی اہم انتخابی ریاست کی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے جہاں 2020 میں ووٹروں نے جو بائیڈن جبکہ 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔
کیشا لانس باٹمز 2018 سے 2022 تک اٹلانٹا کی میئر رہیں تاہم انہوں نے دوسری مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑا۔
بعد ازاں وہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے زیرانتظام دفتر برائے عوامی رابطہ کی ڈائریکٹر بنیں اور پھر 2024 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر سینیئر مشیر کے طور پر کام کیا۔
انتخابی مہم کے دوران کیشا لانس باٹمز نے میڈیکیڈ صحت پروگرام کو وسعت دینے، خاندانوں کے اخراجات کم کرنے اور ووٹ دینے کے حقوق کے تحفظ کے وعدے کیے تھے۔
رک جیکسن نے فروری میں گورنر کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے خود کو ایک ایسے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا جو روایتی سیاسی میدان سے تعلق نہیں رکھتا تھا اور جارجیا کے فوسٹر کیئر سسٹم کے زیرسایہ پروان چڑھا۔
انہوں نے انتخابی مہم پر اپنی ذاتی دولت میں سے 10 کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ کی اور جون میں ہونے والے انتخابی مرحلے میں لیفٹیننٹ گورنر برٹ جونز کو شکست دی تھی جن کو شروع میں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔

شیئر: