Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وسط مدتی الیکشن، ڈیموکریٹس کی پیش قدمی جاری، صدر ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا

صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود ہونے کے واضح امکانات ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے وسط مدتی ڈیموکریٹس نے ابتدائی طور پر کئی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے سینیٹ کی ایک نشست بھی ریپبلکنز سے چھین لی ہے، جس کو صدر ٹرمپ کے سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیموکریٹس نے بعض ایسے حلقوں پر بھی کامیابی حاصل کی ہے جن کو روایتی طور پر ریپبلکنز کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی اہم نشستیں بھی برقرار رکھیں جبکہ ریاست جارجیا میں گورنر کے انتخاب میں کامیابی نے ریپبلکنز کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ماہرین نے ان انتخابات کو ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے بارے میں عوامی رائے کو جانچنے کا ایک اہم موقع قرار دیا تھا۔
 مہنگائی، درآمدی ٹیکسوں اور ایران کے ساتھ امریکی جنگ پر عوامی ناراضی نے صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کو متاثر کیا جبکہ اسی جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ووٹوں کی گنتی شروع ہوتے ہی ریپبلکنز کے لیے پریشان کن نتائج سامنے آنے لگے۔
ڈیموکریٹس نے ریاست نارتھ کیرولائنا میں ایوانِ نمائندگان کی ایک نشست ریپبلکنز سے جیت لی، یہ وہی حلقہ ہے جہاں 2024 میں ٹرمپ نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ فلوریڈا کے کئی انتخابی مقابلوں کے نتائج سے بھی ظاہر ہوا کہ انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی سے ریپبلکنز کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی انہیں توقع تھی۔

رپبلکنز کے گڑھ سمجھے جانے والے بعض حلقوں میں ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی ہے (فوٹو: روئٹرز)

اگرچہ کانگریس کا کنٹرول ابھی واضح نہیں ہوا لیکن ان نتائج سے ظاہر ہونے لگا ہے کہ ڈیموکریٹس ان علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جنہیں عام طور پر ریپبلکنز کا محفوظ انتخابی میدان سمجھا جاتا ہے۔
ریپبلکنز کے لیے ایک دھچکا اس پیش گوئی کو سمجھا جا رہا ہے جس کے مطابق اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز کے جارجیا کے گورنر کے طور پر منتخب ہونے کا امکان ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بن جائیں گی اور اس سے ریاست میں ریپبلکنز کی 24 سال سے جاری حکمرانی بھی ختم ہو جائے گی۔
تاہم دوسری ریپبلکنز نے بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ بائرن ڈونلڈز گورنر کا انتخاب جیت گئے اور ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بن گئے جبکہ ریپبلکن ایشلے موڈی امریکی سینیٹ کی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

سینیٹ میں بریک تھرو

ڈیموکریٹ رہنما اور نارتھ کیرولائنا کے سابق مقبول گورنر رائے کوپر نے انتخابات کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک حاصل کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے سابق چیئرمین مائیکل واٹلی کو شکست دے دی جن کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔
نارتھ کیرولائنا میں اس سے قبل عوام تین بار صدر ٹرمپ کو ووٹ دے چکے ہیں تاہم اس بار رائے کوپر نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کم کرنے کے وعدے پر انتخابی مہم چلائی۔
اسی طرح جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف نے بھی اپنے ریپبلکن حریف کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔ ان کو ڈیموکریٹک پارٹی کی ابھرتی ہوئی شخصیت اور 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
ڈیموکریٹس نے نیو ہیمپشائر میں سینیٹ کی خالی نشست بھی جیت لی جہاں کرس پاپاس کامیاب ہوئے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک بڑی تبدیلی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے۔

ٹرمپ کے اختیارات محدود ہونے کا امکان

اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں کو روک سکتے ہیں۔
اسی طرح کانگریس کی کمیٹیوں کے ذریعے ایران جنگ، ملک بدری اور مبینہ بدعنوانی کے معاملات پر ٹرمپ انتظامیہ کے معاملات کی تحقیقات بھی کر سکتے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیتے ہیں تو وہ عدالتی ججوں اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں کے لیے ٹرمپ کے نامزد کردہ افراد کی منظوری روک سکتے ہیں۔
اس سے صدارت کے آخری دو سال میں ٹرمپ کے لیے حکومت چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عوامی موڈ کی اس تبدیلی کی وجہ روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔
لاس اینجلس کے 24 سالہ ووٹر ٹیلر کُک نے اے ایف پی کو بتایا کہ کرائے، کھانے پینے کی اشیا، بجلی اور گیس کے بلوں اور پراپرٹی ٹیکس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ کانگریس میں ایسے نمائندے چاہتے ہیں جو واقعی مہنگائی کم کرنے کے لیے کام کریں۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو ٹیلی ویژن پر آخری خطاب میں اپنی کارکردگی کا دفاع کیا اور درآمدی اشیا پر ٹیکس، غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی اور ایران کے خلاف فوجی مہم کی تعریف کی تھی۔

شیئر: