امریکہ کی جانب سے وسط مدتی انتخابات سے چند گھنٹے قبل آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف پر محدود حملے سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھی ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ہفتوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
دو علاقائی عہدیداروں اور ایک باخبر ذریعے کے مطابق چند روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ پر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے زور دیا تھا۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تقریباً دو ماہ سے جاری نسبتاً خاموشی کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے خدشات نے مشرق وسطیٰ سمیت کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ کے آبنائے ہرمز میں ایران کے بعض اہداف پر دفاعی حملےNode ID: 910044
جنگ دوبارہ شروع ہونے سے بچانے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
خطے میں امریکہ کے اتحادی بھی واشنگٹن پر زور دے رہے ہیں کہ وہ آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ کو دوبارہ نہ شروع کرے، جس نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔
صدر ٹرمپ کبھی ایران پر بڑے حملوں کی دھمکی دیتے ہیں تو کبھی معاہدے کے ذریعے تنازع ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔
یہ غیر مقبول جنگ اور اس کے نتیجے میں امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں سمیت معیشت پر پڑنے والے اثرات ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی کمزوری بن چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں حملوں کا ہدف کیا تھا؟
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں واقع جزائر قشم اور ہنگام کے علاوہ قریبی ساحلی شہر بندر عباس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے پیر کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملوں میں ان ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز میں امریکہ کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کر رہے تھے۔
امریکی مطالبات پورے ہونے تک آبنائے نہیں کھلے گی: ایران

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے منگل کو سوشل میڈیا پر کہا کہ جب تک امریکہ ایران کی شرائط پر عمل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے مطالبات پر امریکہ کا جواب تسلی بخش نہیں ہے۔
ایران نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں اٹھا لے اور لبنان سمیت پورے خطے میں جنگ بندی کا احترام کرے تو آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس کو سفارتی معاہدے کی امید
ایک طرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے بعض اتحادی ٹرمپ کو فوجی کارروائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب پس پردہ سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی حملوں کی تصدیق سے قبل پیر کو کہا تھا کہ وہ اور صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پانے کے امکانات کے بارے میں پرامید ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر آخری معلوم حملے ستمبر کے آغاز میں کیے گئے تھے۔ تاہم ہزاروں امریکی فوجی اب بھی ایران کے قریب سمندری حدود میں موجود ہیں اور ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو عالمی منڈیوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ہزاروں اضافی فوجی بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں۔
دو علاقائی عہدیداروں اور ایک باخبر ذریعے کے مطابق نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران امریکی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے پر زور دیا تھا۔
ان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور ثالث ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔
ادھر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے بھی امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کریں اور خطے میں مزید فوجی کشیدگی سے گریز کریں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ ایران نے امریکی فریق کو ایک مضبوط اور معقول جواب دے دیا ہے اور اب جنگ روکنے کے لیے فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔












