Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کی نتائج تسلیم کرنے کی یقین دہانی، ’خود میدان میں ہوتا تو اکثریت سے جیتتے‘

ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن سے آگے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’انتخابات کو تسلیم‘ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اگر وہ خود میدان میں ہوتے تو ان کی جماعت ریپبلکن بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’میں انتخابی فہرست کا حصہ نہیں تھا اگر ہوتا تو ہم بڑی اکثریت سے جیت جاتے، اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘
اسی طرح انہوں نے منگل کی رات نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ’میں ان نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کو تیار ہوں، ہم ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور امید ہے کوئی نہ کوئی طریقہ کار طے پا جائے گا۔‘
انتخابات کے نتائج کے موقع پر نرم لہجہ اپنانے والے صدر ٹرمپ اس سے قبل کئی بار انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھا چکے تھے، اسی وجہ سے خدشات پیدا ہوئے تھے کہ ہارنے کی صورت میں شاید وہ نتائج کو تسلیم نہ کریں۔
دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے اعلیٰ رہنما حکیم جیفریز کا کہنا ہے کہ ان (صدر) کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہت سے لوگوں نے ان کو بتایا کہ ان کی تحریک ’میک انڈیا گریٹ اگین‘ مشکلات کا شکار ہے اور ان کے کئی اہم امیدوار ہار گئے ہیں۔
حکیم جیفریز نے نتائج میں ڈیموکریٹس کی مسلسل پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے فیس بک پر ایک مختصر ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’پورے ملک میں بڑے انتہا پسند پیچھے ہٹ رہے ہیں اور صدر ٹرمپ اس وقت سخت صدمے میں ہیں۔‘
رپورٹس کے مطابق اگر موجودہ ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نئی کانگریس میں سپیکر منتخب ہو جاتے ہیں جس کا امکان موجود ہے، تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام سپیکر بن جائیں گے۔

شیئر: