Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ 2026 کے اختتام پر اسرائیل کو 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کر دے گا: صدر ٹرمپ

ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو اب اس امداد کی ضرورت نہیں رہی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکہ رواں سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو دی جانے والی 4 ارب ڈالر کی سالانہ امداد روک دے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کس فنڈنگ کا حوالہ دے رہے تھے یا سال کے اختتام پر اسے کس طریقے سے روکا جائے گا، کیونکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد فراہم کرنے والی مفاہمتی یادداشت 2028 تک مؤثر ہے۔
اس عرصے کے بعد امریکہ کی اسرائیل کے لیے امداد کی نوعیت سے متعلق بات چیت پہلے ہی جاری ہے۔
فاکس نیوز کے پروگرام ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو اب اس امداد کی ضرورت نہیں رہی اور بعض ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان امریکہ کی مالی معاونت کو ریپبلکنز پر تنقید کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’جہاں تک اسرائیل کو ادائیگی کا تعلق ہے، بی بی نیتن یاہو اور میرے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے۔ ہم اسرائیل کو ہر سال 4 ارب ڈالر دیتے ہیں اور چند ماہ قبل طے پایا تھا کہ ہم یہ سلسلہ بند کر دیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم پہلے ہی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ اس سال کے اختتام تک ہم اسرائیل کو رقم نہیں دیں گے۔ اگر اسرائیل کو ضرورت پڑی تو ہم اس کی مدد کریں گے۔‘
2023  میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ میں اسرائیل کی عوامی حمایت میں کمی آئی ہے، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹرز کے درمیان۔ جون میں کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ امریکہ اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت کر رہا ہے، جبکہ 2017 میں یہ شرح بالترتیب 16 فیصد اور 20 فیصد تھی۔
ڈیموکریٹک ووٹرز میں اسرائیل کی حمایت میں مسلسل کمی آ رہی ہے جبکہ اسرائیل پر تنقید کرنے والے امیدوار پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ معتدل قانون ساز بھی امریکہ کی اسرائیل کے لیے طویل المدت پالیسی پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔

ٹرمپ کی ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ تحریک کے بعض حامی بھی حالیہ عرصے میں اسرائیل پر زیادہ تنقید کرنے لگے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدال السید، جو کامیابی کی صورت میں پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بن سکتے ہیں، غیر مشروط فوجی امداد کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی وسائل کو پہلے امریکی شہریوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ بایاں بازو اسرائیل کی مالی امداد کو ’ناانصافی کی علامت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے اور وہ ایسا ہونے نہیں دے سکتے۔ انہوں نے عبدال السید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو امداد روکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’انہیں اس رقم کی ضرورت نہیں اور پھر ہمیں عبدال السید جیسے لوگوں کی تنقید کیوں برداشت کرنی چاہیے؟ یہ ایک خراب سیاسی نکتہ بن چکا ہے۔‘
ٹرمپ کی ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ تحریک کے بعض حامی بھی حالیہ عرصے میں اسرائیل پر زیادہ تنقید کرنے لگے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو یہ یقین دلایا کہ ایران کو جنگ میں آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے، حالانکہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں بیرونی فوجی مداخلتوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

 

شیئر: