قلعہ عبداللہ: باپ بیٹے کے قتل اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے خلاف 4 روز سے نعشوں کے ہمراہ دھرنا جاری
بدھ 4 نومبر 2026 16:43
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد کے حملے میں قتل ہونے والے باپ بیٹے کی نعشیں چار روز گزرنے کے باوجود دفن نہیں کی جا سکیں۔
مقتولین کے لواحقین اور مقامی قبائل نے مطالبات تسلیم ہونے تک نعشوں کے ہمراہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی تدفین اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے اور اغوا ہونے والے نوجوان کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
قلعہ عبداللہ پولیس کنٹرول کے مطابق یہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تحصیل گلستان میں دولنگی کے قریب کلی تنگ مسے زئی میں پیش آیا تھا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک نوجوان کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کر دیا۔
مقتولین کی شناخت محمد حنفیا اور ان کے بیٹے محمد ولی کے نام سے ہوئی ہے جبکہ حملہ آور سابق لیویز اہلکار کے بیٹے محمد حیدر کو اغوا کر کے لے گئے۔
مغوی محمد حیدر کے بھائی محمد اعظم نے بتایا کہ پانچ سے چھ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد جدید اسلحے سے لیس تھے اور انہوں نے ان کے گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق اہل خانہ نے مزاحمت کرتے ہوئے مسلح افراد سے کہا کہ وہ اس طرح گھروں میں داخل نہ ہوں اور خواتین اور بچوں کو ہراساں نہ کریں۔
محمد اعظم نے بتایا کہ ’اس کے باوجود حملہ آور بضد رہے اور مزاحمت کرنے پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے محمد حنفیا اور محمد ولی کی جان چلی گئی۔‘
’فائرنگ کے بعد خوف و ہراس کے باعث لوگ اپنے گھروں سے نکل کر پہاڑوں میں چُھپ گئے جبکہ مسلح افراد ان کے بھائی محمد حیدر کو گاڑی سمیت اغوا کرکے لے گئے۔‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلح افراد گھروں سے اسلحہ، سونا اور لاکھوں روپے نقدی بھی ساتھ لے گئے۔
محمد اعظم کے مطابق افغان سرحد سے متصل اس علاقے میں گذشتہ تین سے چار ماہ کے دوران مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث مقامی آبادی خوف کا شکار ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلح افراد لوگوں سے جبری ٹیکس اور بھتہ وصول کر رہے ہیں اور ان سرگرمیوں کے باعث بعض افراد اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
واقعے کے خلاف مقتولین کے لواحقین اور مقامی قبائل نے اتوار کی صبح سے ول مسے زئی کے مقام پر کوئٹہ چمن شاہراہ پر لاشوں کے ہمراہ دھرنا دے رکھا ہے جو بدھ کو چوتھے روز بھی جاری رہا۔
دھرنے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
دھرنے کی قیادت کرنے والے مسے زئی قبیلے کے رہنما ملک کلیم اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ مظاہرین اپنے پیاروں کی نعشوں پر سیاست نہیں کر رہے بلکہ علاقے میں عدم تحفظ کے باعث انہیں یہ قدم مجبوری کی وجہ سے اٹھانا پڑا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث لوگ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے اور انہیں اپنے آباؤ اجداد کی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبات میں اغوا ہونے والے نوجوان کی بازیابی، علاقے سے مسلح گروہوں کا خاتمہ اور منشیات کی کاشت اور کاروبار کی روک تھام شامل ہیں۔
دھرنا کمیٹی نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ضلع میں جاری پولیو مہم کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے دھرنا کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی کئی کوششیں کی گئیں مگر مظاہرین ٹھوس اقدامات تک احتجاج ختم کرنے پر تیار نہیں۔
احتجاج میں شریک پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان نے کہا کہ لوگوں کے گھروں پر حملہ، شہریوں کا قتل اور اغوا قابل قبول نہیں۔
ان کے مطابق مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اب پشتون علاقوں تک پھیل رہی ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں بلوچ مسلح گروہ ملوث ہیں، تاہم اب تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
محمد عیسیٰ روشان نے الزام عائد ہے کیا کہ حکومت خود ایسے مسلح گروہوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔
ان کے مطابق بجائے ’حکومت ایسے مسلح گروہوں کے مقابلے میں غیر ریاستی اور غیر ملکی عناصر کو لا کر لڑا رہی ہے جو ناقابل قبول اور شرمناک عمل ہے اور اس سے صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں اور یہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بھی ہیں۔
محمد عیسیٰ روشان کہتے ہیں کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ صوبے کے دیگر پشتون علاقوں تک پھیلایا جائے گا۔
