پنجاب میں کرپشن کے الزامات سے تکبر کی بحث تک، مریم نواز اور سالک حسین آمنے سامنے
منگل 3 نومبر 2026 17:27
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چودھری سالک حسین اور وزیراعلیٰ مریم نواز کے درمیان شروع ہونے والی لفظی بحث اب ایک دوسرے کے جوابات اور جوابی ردِعمل تک پہنچ گئی ہے۔
ایک طرف وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی چودھری سالک حسین اپنے الزامات پر قائم ہیں تو دوسری جانب مریم نواز نے ان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تنازع شروع کیسے ہوا، اس میں گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کا ذکر کیوں آیا اور بات کرپشن کے الزامات سے غرور اور تکبر کی بحث تک کیسے پہنچی؟
اس سیاسی کشمکش کا آغاز وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے ایک انٹرویو سے ہوا جس میں انہوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کرپشن کی کہانیاں روزانہ سننے کو ملتی ہیں۔
انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ اب الماریاں بھر چکی ہوں گی،‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے پاس ان الزامات کے حوالے سے براہِ راست دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں۔
چودھری سالک حسین نے پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کی تقسیم پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ زیادہ تر ترقیاتی کام لاہور میں ہو رہے ہیں جبکہ ان اضلاع کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جہاں حکومتی امیدوار کامیاب نہیں ہوئے۔
انہوں نے گجرات کا حوالہ بھی دیا اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو اپنی نظر میں پنجاب کا بہترین وزیراعلیٰ قرار دیا۔
چودھری سالک حسین کے اس بیان کے بعد پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ناراضی کی اصل وجہ گجرات میں اپنی پسند کا ڈپٹی کمشنر تعینات نہ ہونا ہے۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق مریم نواز افسران کی تعیناتیوں میں سیاسی سفارش قبول نہیں کرتیں۔ انہوں نے سالک حسین کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ وفاقی حکومت کا حصہ ہیں اور انہیں اس ہاتھ کو نہیں کاٹنا چاہیے جو انہیں کھانا کھلاتا ہے۔
یہیں سے معاملہ مزید آگے بڑھا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منگل کو اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خود چودھری سالک حسین کو جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر سالک حسین کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں ورنہ عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ مریم نواز نے ان کے خلاف ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان بھی کیا۔
مریم نواز نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو چودھری سالک حسین وفاقی حکومت میں وزارت کیوں لے کر بیٹھے ہیں؟
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے گجرات میں بارش کے دوران پانی جمع ہونے اور اپنی گاڑی ڈوبنے کا واقعہ بھی یاد دلایا۔
یاد رہے کہ چوہدری سالک حسین کے بھائی چودھری شافع حسین اس وقت پنجاب کے صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے چودھری سالک حسین کے بیان پر ردِعمل آنے کے بعد اسلام آباد میں وفاقی وزیر نے صحافیوں سے کسی کا نام لیے بغیر گفتگو کی اور کہا پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے اور ساتھ ہی مریم نواز کے ردِعمل پر جملہ کسا کہ ’اللہ انسان کو غرور اور تکبر سے بچائے۔‘
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس پر بھی خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر جواب دیا کہ ’جھوٹے الزام لگانا عاجزی ہے اور کوئی اپنا جواب دے تو تکبر ہے؟ واہ!‘ یوں بحث کرپشن سے شروع ہوئی اور غرور، تکبر اور عاجزی تک پہنچ گئی۔
تاہم اس لفظی جنگ کے پیچھے گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کا معاملہ کتنا اہم ہے؟ اس بارے میں اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ماجد نظامی نے صورتِ حال واضح کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن یا مریم نواز نے چودھری سالک حسین اور چودھری شافع حسین کو وزارتیں نہیں دیں، بلکہ انہوں نے اتحادی سیاست کے تحت وزارتیں حاصل کی ہیں۔اس لیے انہیں مریم نواز یا شہباز شریف کے سامنے اسی طرح جواب دہ نہیں سمجھا جا سکتا جیسے مسلم لیگ ن کے اپنے وزرا ہیں۔‘
ماجد نظامی کے مطابق چودھری سالک حسین وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے انتہائی قریب ہیں اور دونوں ہم زُلف بھی ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’گجرات کی سیاست اور مسلم لیگ ق کے سیاسی مؤقف کو سمجھنے کے لیے محسن نقوی اور چودھری سالک حسین کو ایک ہی آواز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔‘
انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز اور چودھری سالک حسین کے درمیان لفظی جنگ کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان سے جوڑا۔
انہوں ںے کہا کہ ’محسن نقوی اس سے قبل نظام کے ’کولیپس‘ ہونے سے متعلق عمومی بات کر چکے تھے جبکہ چوہدری سالک حسین نے اپنی گفتگو میں خاص طور پر پنجاب کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔‘
ماجد نظامی کے مطابق ’محسن نقوی کی عمومی بات کے بعد سالک حسین کی جانب سے پنجاب کی تخصیص کرنا دراصل ایک پیغام تھا، جو اب دیا جا چکا ہے۔‘
دوسری طرف پنجاب حکومت کی جانب سے اس تنازعے کو گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی سے جوڑنے پر ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ حکومت کی طرف سے فیس سیونگ کی کوشش ہے۔
ان کے مطابق صرف ایک ضلعے میں ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی پر عمومی طور پر اس قدر بڑا ردِعمل سامنے نہیں آتا۔
انہوں نے قصور میں ڈی پی او کی تعیناتی کے معاملے کا حوالہ بھی دیا جہاں ان کے مطابق ملک محمد احمد خان اپنا معاملہ خود دیکھ رہے ہیں۔
ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’پنجاب کے مختلف اضلاع میں ارکان اسمبلی کو سرکاری افسران کی تعیناتیوں اور انتظامی معاملات میں اپنے کردار کے حوالے سے شکایات ہیں۔‘
’اس کی ایک بڑی وجہ مریم نواز کا گورننس ماڈل ہے جس میں انہوں نے سیاست دانوں کے مقابلے میں بیوروکریسی کو ترجیح دی ہے۔‘
تجزیہ کار ماجد نظامی کا خیال ہے کہ اس معاملے میں فریقین کے لیے سیاسی بقا کا سوال اہم ہے۔
ان کے مطابق دونوں جانب مستقبل کی قیادت اور وزارت عظمیٰ کے امکانات سے جُڑی سیاسی خواہشات بھی موجود ہیں اس لیے فوری مفاہمت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ماجد نظامی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’البتہ کسی مرحلے پر سیز فائر ممکن ہے لیکن اس سے پہلے جارحانہ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔‘
