مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال اور عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر پاکستان کی حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قیمت طے کرنے کے نئے فارمولے کا اعلان کیا ہے۔
نئے فارمولے کے تحت پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین اب پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے متعلقہ درآمدی کارگو کی اصل لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا اور اگر کسی روز کی اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، حادثاتی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو استعمال کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈیویژن کے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو لکھے گئے خط کے مطابق مقامی ریفائنریز کی ایکس ریفائنری قیمت میں شامل پریمیئم، انسیڈنٹلز اور کسٹمز ڈیوٹی کو بھی اگلے 30 دنوں کے لیے سات مارچ 2026 (جنگ سے قبل) کی سطح پر منجمد کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
پیٹرولیم لیوی سے آمدن کتنی، کیا اس کا خاتمہ ممکن ہے؟Node ID: 909071
ان اقدامات کے نتیجیے میں ریفائنریز کی منجمد لاگت اور اصل درآمدی قیمت کے درمیان بننے والا یہ تمام مالی فرق سرکاری پیٹرولیم لیوی اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گا۔
یوں یہ رقم کمپنیوں کی جیب میں جانے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے براہِ راست صارفین کو فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں ریلیف فراہم کرے گی۔
لیکن پی ایس او کی اصل لاگت اور ریفائنریز کی قیمتوں کو منجمد کرنے سے کیا مراد ہے؟
وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے اوگرا کو ارسال کیے گئے مراسلے کے مطابق حکومت نے مقامی ریفائنریز کی تیارکردہ پیٹرول کی بنیادی قیمت (ایکس ریفائنری پرائس) میں شامل پریمیم، انتظامی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کے اجزاء کو اگلے 30 دنوں کے لیے سات مارچ 2026 (جنگ سے قبل) کی سطح پر منجمد کر دیا ہے۔
اس تدبیر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں بڑھنے والے پریمیم اور اضافی اخراجات کا بوجھ عام صارفین پر نہ منتقل ہو اور مقامی ریفائنریز کو جنگی حالات سے اضافی نفع کمانے کے بجائے پرانے اور کم ریٹس کا پابند بنا کر ملک میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔

یاد رہے کہ جنگی حالات کے باعث بین الاقوامی منڈی میں پریمیئم (اضافی چارجز)، شپنگ کے اخراجات اور ڈیوٹیز مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ لیکن اب حکومت نے ریفائنریز کو یہ اجازت دینے سے روک دیا ہے کہ وہ موجودہ مہنگے ریٹس صارفین سے وصول کریں۔
اسی طرح اس پالیسی تبدیلی کے تحت حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی سرکاری قیمت کے تعین کے لیے فرضی تخمینوں اور اندازوں کا خاتمہ کرتے ہوئے حقیقی خریدی لاگت کو معیار بنایا ہے۔
نئے طریقہ کار کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کا بنیادی ریٹ اب صرف پی ایس او کے ذریعے درآمد کیے جانے والے تیل کے کارگو کی واقعی اور اصل لاگت کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔
اگر کسی روز نئے جہاز کی اصل لاگت کا ڈیٹا میسر نہ ہو تو آخری موصولہ کارگو کے پریمیئم، انتظامی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا، تاکہ ریفائنریوں کو من گھڑت یا اندازاً زیادہ نرخوں سے اضافی منافع کمانے سے روک کر محض واقعی اخراجات ہی کا پابند بنایا جا سکے۔
مزید برآں حکومت نے ریفائنریز کی ایکس ریفائنری لاگت کو 7 مارچ 2026 کی کم سطح پر منجمد (کیپ) کر دیا ہے، جبکہ درآمدی قیمت پی ایس او کی اصل درامد پر مبنی ہوگی۔ ان دونوں قیمتوں کے درمیان جو فرق بنے گا، وہ رقم ریفائنریز کا منافع نہیں ہوگی، بلکہ ریفائنریز یہ تمام رقم حکومت کے پیٹرولیم لیوی اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی پابند ہوں گی۔
صارفین کو براہِ راست ریلیف
اس میکانزم کا بنیادی مقصد پیٹرولیم لیوی کا وہ تمام نفع اور ایڈجسٹمنٹ جمع کر کے پیٹرول کی حتمی قیمتوں میں مطابقت رکھتی کمی کے ذریعے براہِ راست عام صارفین تک منتقل کرنا ہے۔

وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو اوگرا کو بھیجے گئے ہنگامی مراسلے کے مطابق وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو ہی پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ نئی تجاویز کی منظوری دی ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ اس ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہونے والا تمام تر مالی فائدہ پیٹرول کے نرخوں میں مطابقت رکھتی کمی کے ذریعے براہِ راست صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔
مزید برآں، اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیٹرول، ہائی سپیڈ ڈیزل، دبئی کروڈ اور آرامکو ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ ایکس ڈیپو قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنے کے ساتھ ساتھ قومی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو بھی جاری کرے، جبکہ قیمتوں کے تعیّن کے دیگر تمام سابقہ پیرامیٹرز بدستور برقرار رہیں گے۔
حکومت کے اس نئے فارمولے پر تبصرہ کرتے ہوئے انرجی امور کے ماہر علی خضر نے اردو نیوز کو بتایا کہ اگرچہ اس طریقہ کار سے عوام کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے تک کا ریلیف مل سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ریفائنریز کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
علی خضر کے مطابق اس اقدام کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ’آپ ایک شخص کی جیب سے پیسے نکال کر دوسرے کو دے رہے ہیں اور اس پر ٹیکس کے بوجھ میں بھی کوئی کمی نہیں کر رہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت نے پہلے سے طے شدہ قانون کے تحت ریفائنریز کو ایک مخصوص مارجن کی اجازت دے رکھی تھی، تو اب اچانک ان سے یہ حق واپس لینا ان کی ’کمر توڑنے‘ کے مترادف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت کو یہ سمجھتی ہے کہ ریفائنریز نے غیر معمولی منافع کمایا ہے تو اس کا حل ان کے نفع پر ٹیکس لگانا ہے، نہ کہ حکومت اپنے پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ریفائننگ انڈسٹری پر ڈالے۔
اُن کے خیال میں حکومت کے اس فیصلے سے ملک میں ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کا عمل رک سکتا ہے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اس پالیسی پر آئل ریفائنریز کے تحفظات برقرار ہیں، لیکن اس کے نفاذ سے صارفین کو فی لیٹر پیٹرول پر 15 سے 20 روپے تک کا فائدہ مل سکتا ہے۔












