انڈونیشیا میں صدر کی مبینہ جاسوسی، تین اعلیٰ پولیس افسران گرفتار
انڈونیشیا میں صدر کی مبینہ جاسوسی، تین اعلیٰ پولیس افسران گرفتار
بدھ 4 نومبر 2026 13:29
انڈونیشیا میں صدر پرابوو سوبیانتو اور کئی اہم شخصیات کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کرنے کے الزام میں پولیس کے تین اعلی افسران کو گرفتار کیا گیا ہے۔
منگل کی رات جکارتہ میں پریس کانفرنس کے دوران نیشنل پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ آسپ سفردین نے بتایا کہ تینوں افسران کے خلاف مواصلاتی رابطوں کی غیر قانونی نگرانی، اجازت کے بغیر الیکٹرانک نظام تک رسائی اور ڈیجیٹل ڈیٹا حذف کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس نے گرفتار افسران کی شناخت صدارتی چیف آف سٹاف جنرل لیستیو سگیت پرابوو، نیشنل پولیس کے قانونی شعبے کے سربراہ انسپکٹر جنرل آہریے سونتا ناسوتیون اور نیشنل پولیس کے تربیتی ادارے کے سینیئر انسٹرکٹر انسپکٹر جنرل ایکو ہادی سانتوسو کے نام سے کی ہے۔
کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق تینوں کو نیشنل پولیس کے ہیڈکوارٹر میں قائم حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
آسپ سفردین نے پولیس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملزمان پر انڈونیشیا کے صدر، سرکاری عہدیداروں، سیاسی رہنماؤں، میڈیا سے وابستہ شخصیات، سماجی رہنماؤں، غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں اور کاروباری افراد کے فون نمبرز کی غیر قانونی نگرانی کا الزام ہے۔
صدر پرابوو اور تینوں زیر حراست افسران نے تاحال ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔ صدارتی چیف آف سٹاف کے دفتر کے ترجمان سے بھی تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں 10 گواہوں اور تین ماہرین سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، جبکہ شواہد کے طور پر 11 موبائل فون، ایک آئی پیڈ اور چار یو ایس بی ڈرائیوز قبضے میں لی گئی ہیں۔
گرفتار کیے گئے افسران پر ملک کے صدر، سرکاری عہدیداروں، سیاسی رہنماؤں کے فون نمبرز کی غیر قانونی نگرانی کا الزام ہے:انڈونیشیا کے صدر کی فائل فوٹو اے ایف پی
تحقیقاتی حکام کا الزام ہے کہ غیر قانونی فون ٹیپنگ کا سلسلہ 2025 سے 2026 کے دوران جاری رہا، جب جنرل لیستیو نیشنل پولیس کے سربراہ کے عہدے پر فائز تھے۔
ملزمان نے 2010 کے پولیس ضابطے میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر فون ٹیپ کرنے کے احکامات دیے۔
سفردین کے مطابق کئی فون نمبرز کی تصدیق کیے بغیر انہیں قانونی نگرانی کے نظام ’لِمس‘ میں شامل کیا گیا۔ ملزمان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے حال ہی میں اس نظام سے فون ٹیپنگ سے متعلق ریکارڈ حذف کرنے کا حکم دیا تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں اور مبینہ کارروائی کے نشانات چھپائے جا سکیں۔
حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ فون ٹیپنگ کا مقصد کیا تھا یا اس کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔
انڈونیشیا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق، امیگریشن اور اصلاحات یوسرل احزا مہندرا نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران تین حاضر سروس اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف بغاوت یا غداری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
تاہم منگل کی شام جکارتہ میں ایک الگ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کے صدر یا حکومتی وزرا کی نگرانی کی جا رہی ہو اور اس کا مقصد بھی معلوم نہ ہو تو یہ معمولی معاملہ نہیں، بلکہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
مہندرا کے مطابق ملزمان پر انڈونیشیا کے نئے فوجداری قانون کی دفعہ 258 کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ یہ دفعہ نجی الیکٹرانک رابطوں کو غیر قانونی طور پر سننے، ریکارڈ کرنے، ان کا رخ تبدیل کرنے، ان میں ردوبدل کرنے یا ان کی نگرانی کرنے سے متعلق ہے۔ اس جرم میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ملزمان کو فوجداری قانون کی دفعہ 332 کے تحت بھی کارروائی کا سامنا ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ چھ سال قید کی سزا مقرر ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک معلومات اور لین دین کے قانون کی دفعہ 32 بھی لاگو ہو سکتی ہے، جو ڈیجیٹل معلومات میں غیر قانونی ردوبدل، انہیں تباہ کرنے، حذف کرنے، منتقل کرنے یا چھپانے سے متعلق ہے۔ اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا آٹھ سال قید ہے۔