Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وفاقی کابینہ کا فیصلہ: 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو الوداع، اب سِکے کا ’راج‘ ہو گا

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹوں کے نئے اور جدید ڈیزائنز اور 10 روپے کے کاغذی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ نیا سکہ متعارف کروانے کی منظوری دے دی ہے۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں نئے کرنسی نوٹوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے بعد وزیراعظم اور کابینہ ارکان نے ان سفارشات اور ڈیزائنز کی باضابطہ منظوری دی۔
اجلاس کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے ملک بھر کے مصوروں اور ڈیزائنرز سے تجاویز طلب کی گئی تھیں۔ 
بعد ازاں وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کابینہ کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ان ڈیزائنز کو حتمی شکل دی۔
حکام کی جانب سے کابینہ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں جعلی نوٹوں کی روک تھام اور سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے نئے نوٹوں میں عالمی معیار کے جدید حفاظتی فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں۔ 
اس کے علاوہ نوٹوں کی تیاری میں جدید اور پائیدار میٹیریل استعمال کیا جائے گا، جس سے کرنسی نوٹوں کے استعمال کی معیاد میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
نئے کرنسی نوٹ کیسے ہوں گے؟
وفاقی کابینہ کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کے جدید ڈیزائنز کی منظوری کے بعد، سٹیٹ بینک نے اِن کی چھپائی اور انہیں مرحلہ وار جاری کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق نئے ڈیزائن کیے گئے تمام نوٹوں کے اگلے حصے پر بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تصویر روایتی انداز میں برقرار رکھی گئی ہے۔
نوٹ کے پچھلے حصے پر ملکی ثقافتی ورثے، تاریخی عمارتوں، قومی علامات اور قدرتی مناظر کی عکاسی کی جائے گی۔ 
اس کے علاوہ ہر مالیت کے نوٹ کے رنگ اور جسامت میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ عوام کے لیے شناخت آسان ہو سکے۔
اسی طرح جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے ان میں بین الاقوامی معیار کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ 
مزید برآں بڑے نوٹوں پر ایسی سیاہی کا استعمال کیا جائے گا جو زاویہ بدلنے پر رنگ بدلتی ہے، جبکہ ہولوگرافک سکیورٹی دھاگے اور واضح واٹر مارکس بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ؎نابینا افراد کی سہولت کے لیے اُبھری ہوئی چھپائی (انٹیگلیو پرنٹنگ) کے نقوش بھی بنائے گئے ہیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق نوٹوں کی پائیداری کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کی تیاری میں اعلیٰ معیار کے کاٹن پیپر اور پروٹیکٹو کوٹنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ یہ جلدی میلے یا خراب نہ ہوں۔ 
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ 10 روپے کے کاغذی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ 10 روپے کا نیا سکہ جاری کرنا بھی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے نوٹوں کی مارکیٹ میں منتقلی کا عمل مرحلہ وار رکھا گیا ہے۔ موجودہ پُرانے نوٹ ایک مقررہ مدت تک قانونی طور پر قابلِ قبول رہیں گے، اس لیے شہریوں کو فوری طور پر نوٹ تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
10 روپے کا سکہ جاری کرنے کی منظوری
وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کروانے کی بھی منظوری دی ہے۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد روزمرہ استعمال میں آنے والی اس چھوٹی مالیت کی کرنسی کی پائیداری کو یقینی بنانا اور پرنٹنگ پر آنے والے خطیر قومی اخراجات میں کمی لانا ہے۔
ماہرین کے مطابق کاغذی نوٹ سب سے زیادہ گردش میں رہنے کے باعث جلدی خستہ اور ناکارہ ہو جاتے ہیں جنہیں سٹیٹ بینک کو بار بار نیا چھاپنا پڑتا ہے۔ 
دھاتی سکہ دہائیوں تک قابلِ استعمال رہتا ہے، جس سے طویل مدتی بنیادوں پر چھپائی کے اخراجات میں نمایاں بچت ہوگی۔ 
حکام کے مطابق 10 روپے کے پُرانے کاغذی نوٹ فوری منسوخ نہیں ہوں گے بلکہ نئے سِکوں کی آمد کے ساتھ انہیں بتدریج مارکیٹ سے واپس لیا جائے گا۔
 

شیئر: