Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض ایئرپورٹ حملہ: ایک اور زخمی نے دم توڑ دیا، مرنے والے 14 ہوگئے

تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شیح سعید کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بچے ہیں ( فائل فوٹو)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دس اکتوبر کو حوثیوں کے میزائل حملے میں شدید زخمی ہونے والے ایک اور انڈین شہری شیخ سعید انتقال کر گئے۔ حملے میں جان سے جانے والوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔
انڈین سفارتخانے نے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا ’انتہائی دکھ  کے ساتھ ہم یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ دس اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں شدید زخمی ہونے والے انڈین شہری ریاض کے ایک ہسپتال کے آئی سی یونٹ میں چل بسے۔‘
’ہم اس دوران ہر وقت ان کے اہل خانہ کے ساتھ رہے اور اب بھی ان کے ساتھ ہیں، ان کے اہل خانہ اور احباب سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
پوسٹ میں لکھا ’ان کے اہل خانہ کی خواہش کے مطابق ان کی میت کو انڈیا بھیجنے یا ریاض میں تدفین کے لیے ہر ممکن مدد کریں گے۔‘
یاد رہے اس سے قبل ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے ولے محمد یوسف بھی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے تھے۔
سعودی عرب میں انڈین سفیر شری وپل نے عرب نیوز کو بتایا گزشتہ رات انڈین شہری شیح سعید کی موت پر گہرا دکھ ہے۔ وہ  دس اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ تین ہفتے سے زائد عرصے تک بہادری کے ساتھ اپنی زندگی کی جنگ لڑی۔
تلنگانہ کے ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والے شیح سعید کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین بچے ہیں جبکہ ان کے دو بھائی بھی ریاض میں کام کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا اس دوران سفارتخانے کے افسران اور کمیونٹی ارکان شیخ سعید کے اہل خانہ اور سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے جنہوں نے تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کیں۔
انہوں نے بتایا اس وقت کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور انڈین شہری آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ ان کی حالت مستحکم ہے۔ امید ہے چند دنوں میں ان کی حالت مزید بہتر ہوجائے گی۔

جبکہ ایک اور زخمی انڈین شہری ہستپال کے جنرل وارڈ میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے  طبی معاونت فرہم کرنے پر ہسپتال انتظامیہ اور سعودی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا ’ہم سعودی عرب میں شہری علاقوں اور ایئرپورٹس جیسے انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کی پھر مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بے گناہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ خطے میں امن اور معمول کے حالات بحال ہو جائیں گے۔‘

 

شیئر: