سعودی سفیر کی وفاقی وزیر چوہدری سالک اور خالد مقبول سے ملاقات
پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
پاکستان میں نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجع بن طامی البقمی نے بدھ کو وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔
سفارتخانے کے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کے مطابق وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کا نئی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے موقع پر استقبال کیا۔
ملاقات کے دوران انسانی وسائل کی ترقی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعلقات، تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس کے ساتھ ساتھ، مملکت کے وژن 2030 کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں حصہ ڈالنے کے لیے ماہر پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔
سعودی سفیر نے یقین دلایا سعودی سفارتخانہ، مملکت کی دانشمند قیادت کی ان ہدایات پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے جن کا مقصد پاکستانی شہریوں کے لیے ہر قسم کے ویزا طریقہ کار کو تیز تر بنانا اور مملکت کے سفر کو آسان بنانا ہے۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ برادرانہ تعلقات مستحکم ہوں۔ دونوں ممالک اور ان کے برادر عوام باہمی فوائد حاصل کر سکیں۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کے دوران اعلیٰ تعلیم، تعلیمی و ثقافتی تبادلوں، سکالرشپس، مشترکہ سائنسی تحقیق، عربی زبان کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں برادر ملکوں کے مابین تاریخی برادرانہ تعلقات اور مؤثر تعلیمی شراکت داری اور باہمی فائدے کے حامل اقدامات کے ذریعے تعلیمی پہلوؤں سمیت تمام شعبوں میں ان تعلقات کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
سعودی سفیر نے یقین دلایا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کو مسلسل فروغ دینا تمام شعبوں میں ہم آہنگی اور سٹریٹیجک شراکت داری کی کوششوں کو آگے بڑھانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کی سفارتی فرائض میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں گزشتہ روز سعودی سفیر نے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین سے ملاقات کی۔
دونوں برادر ملکوں کے مابین زراعت، لائیو سٹاک، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
