قومی اسمبلی کی مخصوص نشست کا تنازع: جے یو آئی کی درخواست خارج، صدف احسان اور صدف یاسمین کا معاملہ کیا ہے؟
جمعرات 5 نومبر 2026 16:51
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
وفاقی آئینی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشست پر صدف احسان کی رکنیت کو چیلنج کرنے سے متعلق اپیل خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے جے یو آئی (ف) اور حنا بی بی کی جانب سے دائر درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے دیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ جے یو آئی (ف) کے سینیئر رہنما اور وکیل سینیٹر کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران کامران مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی جماعت نے مخصوص نشستوں کے لیے الیکشن کمیشن کو چار امیدواروں کے نام دیے تھے اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ مخصوص نشستوں کے لیے جمع کرائی گئی فہرست میں اپنی طرف سے تبدیلی کرے۔
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد مقدمہ ہے کیونکہ جے یو آئی مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ صدف احسان اس کی امیدوار نہیں تھیں لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں جماعت کی امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
وکیل کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت کی فراہم کردہ فہرست میں کوئی غلطی یا کمی تھی تو الیکشن کمیشن کو اس کی تصحیح کے لیے جماعت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔
تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپیل خارج کر دی اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔
یہ تنازع کیا ہے اور کیسے شروع ہوا؟
یہ تنازع دراصل 2024 کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا تھا جب خیبر پختونخوا سے خواتین کی مخصوص نشست کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی فراہم کردہ ترجیحی فہرست میں صدف یاسمین کا نام موجود تھا لیکن الیکشن کمیشن کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی خاتون کا نام صدف احسان تھا۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ ترجیحی فہرست میں چار نام شامل تھے۔ ان میں شاہدہ اختر علی، نعیمہ کشور، حنا بی بی اور صدف یاسمین کے نام بالترتیب درج تھے۔
اس فہرست میں صدف یاسمین کا نام آخری نمبر پر تھا، تاہم الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق صدف یاسمین کے نام سے کسی خاتون نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے۔
اُن کے بجائے ایک دوسری خاتون صدف احسان نے کاغذات جمع کرائے اور بعد ازاں انہیں مخصوص نشست پر کامیاب قرار دے دیا گیا اور یہیں سے اس تنازعے نے جنم لیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے دعویٰ کیا کہ صدف احسان اس کی نامزد امیدوار نہیں ہیں اور جے یو آئی نے صدف یاسمین کو ٹکٹ جاری کیا تھا۔
جے یو آئی کا مؤقف تھا کہ صدف یاسمین کے نام سے کسی خاتون نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے اس لیے صدف احسان کو جماعت کی امیدوار قرار دینا درست نہیں۔
جے یو آئی (ف) نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا اور صدف احسان کا نوٹیفیکیشن منسوخ کرکے حنا بی بی کو مخصوص نشست پر کامیاب قرار دینے کی درخواست کی۔
الیکشن کمیشن نے ابتدائی طور پر متعلقہ ریٹرننگ افسر کو معطل کرکے معاملے کی انکوائری کا حکم بھی دیا تھا۔ اپریل 2024 میں جے یو آئی (ف) نے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی اٹھایا۔
جے یو آئی کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدف احسان نے مبینہ طور پر صدف یاسمین کی شناخت استعمال کرتے ہوئے مخصوص نشست حاصل کی حالانکہ جے یو آئی نے انہیں امیدوار نامزد نہیں کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس وقت الیکشن کمیشن، اٹارنی جنرل اور صدف احسان کو نوٹسز جاری کیے تھے۔
جے یو آئی (ف) کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مخصوص نشست کے لیے پارٹی کی نامزد امیدوار صدف یاسمین تھیں، صدف احسان نہیں۔
صدف احسان کا کیا مؤقف تھا؟
دوسری جانب صدف احسان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ صدف احسان اور صدف یاسمین دراصل ایک ہی خاتون ہیں اور نام میں فرق کی وجہ ان کے والد اور والدہ کے نام کا اندراج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کا نام یاسمین بی بی اور والد کا نام احسان ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے پرسنل اسسٹنٹ نے قومی اسمبلی کی ترجیحی فہرست میں ان کا نام صدف یاسمین لکھ دیا تھا جبکہ صوبائی اسمبلی کی ترجیحی فہرست میں ہاتھ سے صدف احسان درج کیا گیا تھا۔
صدف احسان نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے پارٹی کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں کی نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور ان کے پاس اس حوالے سے رسیدیں بھی موجود ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ پارٹی کی فراہم کردہ فہرست میں دیگر ناموں کے حوالے سے بھی مسائل موجود تھے لیکن صرف ان کے نام کے فرق کو بنیاد بنا کر تنازع کھڑا کیا جا رہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے خود انہیں مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا تھا اور وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گی۔
حنا بی بی کا معاملہ کہاں سے سامنے آیا؟
اس تنازعے میں جے یو آئی (ف) کی ایک اور خاتون رہنما حنا بی بی بھی فریق بن گئیں۔ جماعت کا مؤقف تھا کہ اگر صدف یاسمین نے قومی اسمبلی کی مخصوص نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تو ترجیحی فہرست میں ان کے بعد موجود حنا بی بی کا حق بنتا تھا تاہم صدف احسان نے اس مؤقف کی بھی مخالفت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ حنا بی بی نے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے، اس لیے ان کی جگہ صدف احسان کا انتخاب درست تھا۔
بعد ازاں 28 جنوری 2026 کو الیکشن کمیشن نے حنا بی بی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے صدف احسان کو قومی اسمبلی کی رکن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حنا بی بی اس فیصلے کو انتخابی ٹریبیونل میں چیلنج کر سکتی تھیں۔ اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا جہاں اب 5 نومبر 2026 کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے جماعت کی اپیل خارج کر دی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں صدف احسان کی قومی اسمبلی کی رکنیت برقرار رہے گی اور مخصوص نشست کے حوالے سے جے یو آئی (ف) کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی ہے۔