Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’وقار مجروح کیا جا رہا ہے‘، ’اے آئی خاتون وکیل‘ کی وائرل ویڈیوز کے خلاف درخواست

ین سی سی آئی اے کے لاہور آفس میں درخواست محمد آصف نامی وکیل نے درخواست جمع کرائی ہے (فوٹو: ڈیجیٹل رائٹس ڈاٹ کام)
سوشل میڈیا پر بظاہر وکیل دکھائی دینے والی خاتون کی ویڈیوز کا معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے پاس پہنچ گیا  ہے۔
جمعرات کو محمد آصف نامی وکیل کی جانب سے این سی سی آئی اے لاہور کے دفتر میں جمع کرائی گئی درخواست میں ویڈیوز کو جعلی اور اے آئی جنریٹڈ قرار دیا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے خواتین وکلا کے وقار کو مجروح کیا جا رہا ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے اے آئی سے بنائی گئی ویڈیوز میں وکلا کے لباس کی تضحیک کی گئی ہے۔
اس میں سوشل میڈیا پر اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلی کردار تخلیق کر کے اس کے ذریعے وکیلوں کے لباس کے غلط استعمال کی مذمت بھی کی گئی ہے۔
درخواست کے مطابق ’ایسی ویڈیوز سے وکیل خواتین کے وقار کو مجروح کیا جا رہا ہے اور پیشہ ورانہ شناخت کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔‘

انٹرنیٹ پر ایک ایسی مبینہ خاتون کی ویڈیوز وائرل ہیں جو بظاہر وکیل لگتی ہیں (فوٹو: سکرین شاٹ)

دوسری جانب این سی سی آئی اے کی جانب سے درخواست وصولی کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ٹیم درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔
خیال رہے چند روز سے ایک خاتون وکیل کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جن میں وہ لوگوں کے ساتھ چلتی ہوئی نظر آتی ہیں اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ کچہری میں کسی موکل کے کیس کے لیے پہنچی ہیں۔
تاہم وکلا برادری کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں اور یہ ایک فرضی کردار ہے جس پر پوری وکلا برداری کو تشویش ہے۔

شیئر: