ایران سے تعلقات پر امریکہ کی انڈیا اور ترکیہ کی کئی کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں
امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی کارروائیوں سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے ساتھ روابط کے الزام میں انڈیا اور ترکیہ میں قائم کمپنیوں اور بعض افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حکومت کی حمایت کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے آپریشن ’اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کی تیل فروخت کرنے کی صلاحیت محدود کرنا ہے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدنی حاصل نہ کر سکے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی کارروائیوں سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، ایرانی کرنسی ریال کی قدر نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً 90 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق بدھ کو عائد کی گئی پابندیوں کا ہدف اس کا بقول ایک ’وسیع مجرمانہ نیٹ ورک‘ ہے، جسے انڈیا میں مقیم سنیل کمار شرما چلا رہے تھے۔ پابندیوں کی زد میں ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد، دو دیگر انڈین شہری اور شرما کے کاروبار سے منسلک نو الگ الگ ادارے بھی آئے ہیں۔
محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے ذریعے امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ایسے بحری جہازوں کو جعلی شناخت اور سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے جو ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل میں ملوث تھے۔ ان میں وہ جہاز بھی شامل تھے جو ایرانی فوج اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کام کر رہے تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ترکیہ میں قائم کمپنی ’فوگو گروپ سروسز انکارپوریٹڈ‘ پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کمپنی ایران کے فضائی شعبے کو مسلسل معاونت فراہم کر رہی تھی، جو پہلے ہی سخت امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔
