Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قطری امیر اور امریکی صدر میں رابطہ، علاقائی بحرانوں کے خاتمے کی کوششوں پر تبادلہ خیال

دوحہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال پر بھی بات کی (فائل فوٹو: عرب نیوز)
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعے کو دوحہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب ایران کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے تہران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو جوہری معاملے پر ایک تجویز بھیجی ہے۔
عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ تجویز پر اس وقت بات چیت ہو گی جب تک واشنگٹن ایران کے سات مطالبات پورے نہیں کرتا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واشنگٹن اس وقت ایران کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

دوحہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک رہا ہے اور وہاں مذاکرات کے دور بھی ہوئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی) 

ایران کی جانب سے جو مطالبات کیے گئے ہیں ان میں ملک پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کے علاوہ کچھ مزید شرائط بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب  دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملات کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی لڑائی شروع ہو گئی۔ حالیہ دنوں میں یہ تنازع یمن تک پھیل گیا، جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں توانائی کے مراکز، ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔

شیئر: