Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گنگا کے پانی پر انڈیا سے ختم ہونے والا معاہدہ، بنگلہ دیش کے لیے خطرہ کتنا بڑا ہے؟

50 سالہ ریحانہ خاتون نے بتایا کہ جب سیلاب نے ان کے گاؤں فیلڈر بازار میں گھر تباہ کیا تو پانی کے بہاؤ کی ’دہلا دینے والی آوازیں‘ سنائی دے رہی تھیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے ساتھ دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کا 30 سالہ معاہدہ دسمبر میں ختم ہونے جا رہا ہے اور بنگلہ دیش کو خدشہ ہے کہ نئے معاہدے پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں پانی کی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس سے کروڑوں افراد کے روزگار اور ذریعۂ معاش کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
بنگلہ دیش کے خشک سالی سے متاثرہ علاقے بارنڈ میں 72 سالہ بیکاش سورین کو وہ وقت یاد ہے جب پڑوسی ملک انڈیا سے آنے والا دریائے گنگا ان کے گاؤں کے قریب سے گزرتا تھا اور اس میں سال بھر بڑی کشتیاں چلتی تھیں۔
پروٹسٹنٹ مسیحی مذہبی پیشوا سورین نے  اے ایف پی کو بتایا کہ ’سال کے تقریباً تین ماہ ایسے ہوتے ہیں جب دریا میں پانی بہتا ہوا بمشکل دکھائی دیتا ہے۔‘
ان کے مطابق، گزشتہ فصلوں کے موسم میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث چاول اور گندم کی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس کے بعد دو کسانوں نے خودکشی کر لی۔
گنگا میں پانی کا بہاؤ کم ہونے سے مچھلیوں کے شکار میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ بنگلہ دیش میں اس دریا کو پدما کہا جاتا ہے۔
55 سالہ ابو بکر صدیقی نے کہا کہ ’اب ہمیں مچھلیاں کہاں سے ملیں گی؟ میں پہلے کئی اقسام کی مچھلیاں پکڑا کرتا تھا۔‘ اب وہ دریا کے بجائے تالابوں میں مچھلیاں پالنے کا کام کرتے ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے مطابق، دریائے گنگا 2,525 کلومیٹر (1,569 میل) طویل ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے دریائی طاس سے گزرتا ہے، جہاں مجموعی طور پر 65 کروڑ 50 لاکھ افراد آباد ہیں۔ ان میں بنگلہ دیش کے پانچ کروڑ سے زیادہ باشندے بھی شامل ہیں۔
1996 میں طے پانے والا معاہدہ 12 دسمبر کو ختم ہو رہا ہے۔ اس کے تحت خشک موسم میں انڈیا کے فرکہ بیراج پر پانی کی تقسیم کا طریقۂ کار طے کیا گیا تھا۔ یہ بیراج بنگلہ دیش کی سرحد سے تقریباً 20 کلومیٹر (12 میل) اوپر کی جانب واقع ہے۔
پانی کی تقسیم سے متعلق تکنیکی کمیٹی کے سربراہ اور بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم کے مشیر راشد المہ محمود تیتومیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے ملک کو نئے معاہدے کی ضرورت ہے، جو ’باہمی فائدے اور احترام‘ کے اصولوں پر مبنی ہو۔
انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحد پار بہنے والے 54 دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر کئی دہائیوں سے اختلافات چلے آ رہے ہیں، جن میں گنگا کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
پانی کی تقسیم کی نگرانی کرنے والے مشترکہ دریائی کمیشن (جے آر سی) کے بنگلہ دیشی رکن رہنے والے ملک فدا اے خان نے کہا کہ انڈیا نے دریا کے بالائی حصے میں ’مزید ڈیم تعمیر کیے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس مرتبہ معاہدے میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق شقیں شامل ہونا ضروری ہیں اور پورے دریائی طاس کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔‘
کشیدہ ہوتے دوطرفہ تعلقات
بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اس نے انڈیا سے معاہدے کی تجدید کے لیے مذاکرات کی درخواست کی لیکن نئی دہلی کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا گیا۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’دریاؤں سے متعلق معاملات پر بات چیت‘ مشترکہ دریائی کمیشن کے دائرۂ کار میں آتی ہے۔ کمیشن کی آخری تکنیکی بات چیت مئی میں ہوئی تھی۔
دونوں ممالک کے مشترکہ دریائی کمیشن کا وزارتی سطح پر آخری اجلاس، جس کی باضابطہ تصدیق کی گئی، 2022 میں ہوا تھا۔ اس سے پہلے 12 سال تک اس سطح کا کوئی اجلاس نہیں ہوا تھا۔
دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کے لیے مجوزہ معاہدہ بھی 2011 سے تعطل کا شکار ہے۔ یہ دریا بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتا ہے۔
2024 میں بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت کے بعد سابق رہنما شیخ حسینہ اپنے دیرینہ اتحادی انڈیا فرار ہو گئی تھیں، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ اس واقعے کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکہ کے تعلقات میں تلخی آئی ہے۔
انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت پانے والی حسینہ واجد نے وعدہ کیا ہے کہ وہ دسمبر میں انڈیا سے بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔ یہ وہی مہینہ ہے جس میں ان کے دورِ حکومت میں طے پانے والے گنگا معاہدے کی مدت ختم ہو رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم طارق رحمان بھی معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے انڈیا کا دورہ کر سکتے ہیں تاہم ابھی تک اس دورے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

55 سالہ ابو بکر صدیقی نے کہا کہ ’اب ہمیں مچھلیاں کہاں سے ملیں گی؟ (فوٹو: اے ایف پی)

دونوں ملکوں کے درمیان پانی کا تنازع 1975 تک جاتا ہے، جب  انڈیا نے 2.2 کلومیٹر (1.3 میل) طویل فرکہ بیراج کھولا تھا۔ بنگلہ دیش نے الزام لگایا کہ انڈیا نے دریا کے زیادہ تر پانی کا رخ اپنی جانب موڑ لیا ہے۔
اس تنازع میں اقوامِ متحدہ نے مداخلت کی اور 1977 میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔
تاہم ڈھاکہ میں قائم ماحولیاتی تنظیم ’ریورین پیپل‘ کے شیخ روکن کے مطابق، ایک دہائی بعد پانی کی تقسیم کے انتظامات کی مدت ختم ہو گئی، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔
شیخ روکن نے کہا کہ ’معاہدے کے بغیر گزرنے والے برسوں میں گنگا کو نقصان پہنچا اور کم از کم تین دریا تقریباً خشک ہو گئے۔‘
ان میں دریائے گورائی بھی شامل تھا، جو سندربن کے جنگلات تک میٹھا پانی پہنچاتا ہے۔ سندربن دنیا کا سب سے بڑا مینگروو جنگل اور عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقام ہے۔ میٹھے پانی کی فراہمی سطحِ سمندر بلند ہونے کے باعث کھارے پانی کی زمین میں دراندازی محدود رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
شیخ روکن کے مطابق، بنگلہ دیش کا گنگا۔کوبادک آب پاشی منصوبہ ملک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، جسے 955 مربع کلومیٹر (369 مربع میل) زرعی اراضی کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاہم ’پانی کی قلت کے باعث یہ منصوبہ غیر فعال ہو گیا۔‘
مئی میں ڈھاکہ نے پدما بیراج کی تعمیر کی منظوری دی۔ اس 2.8 ارب ڈالر کے منصوبے کا مقصد پانی کی قلت کم کرنا ہے۔ اس میں 113 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا پن بجلی گھر بھی شامل ہوگا۔

دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کے لیے مجوزہ معاہدہ بھی 2011 سے تعطل کا شکار ہے۔ یہ دریا بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

 ’تباہ کن‘ نتائج کا خدشہ
1996 کے معاہدے میں اس کی مدت خودکار طور پر بڑھانے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔
شیخ روکن نے کہا کہ ’اگر ہم نئے معاہدے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے تو مجھے خدشہ ہے کہ صورتِ حال معاہدے کے بغیر گزرنے والے گزشتہ برسوں سے بھی زیادہ خراب ہو جائے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دریا کے دونوں جانب میٹھے پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘
بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود گنگا۔کوبادک آب پاشی منصوبے کے تحت سیراب ہونے والی زمین کا رقبہ کم ہو کر 550 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔
بنگلہ دیش کی راج شاہی یونیورسٹی میں ارضیات کے پروفیسر چودھری سرور جہاں نے کہا کہ ’اگر دریا میں پانی کا بہاؤ ضرورت کے مطابق نہ رہا تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔‘
بنگلہ دیش کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور وہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہے۔ یہ تبدیلی دریاؤں کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ بڑھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خشک موسم میں پانی کی قلت اور مون سون کے دوران شدید سیلاب باری باری آتے ہیں۔ سیلاب زرعی زمینوں اور دیہات کو بہا لے جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے واٹر ڈیولپمنٹ بورڈ کے مطابق، ضلع چپائی نواب گنج میں حالیہ برسوں کے دوران دریا کی چوڑائی تین کلومیٹر بڑھ گئی ہے، جس سے اس کا حجم تقریباً دوگنا ہو گیا ہے۔
50 سالہ ریحانہ خاتون نے بتایا کہ جب سیلاب نے ان کے گاؤں فیلڈر بازار میں گھر تباہ کیا تو پانی کے بہاؤ کی ’دہلا دینے والی آوازیں‘ سنائی دے رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’دریا بپھر گیا اور کنارے پر موجود ہر چیز کو نگلنے لگا۔‘ ریحانہ خاتون اب بانس سے بنی ایک عارضی پناہ گاہ میں رہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پانی اتر جانے کے بہت عرصے بعد بھی بچے اس صدمے سے باہر نہیں نکل پاتے۔‘

شیئر: