بحری ناکہ بندی کے بعد امریکی فوج کی اب ایرانی زمینی تجارت بھی محدود کرنے کی تیاریاں
ایران کے خلاف مہینوں سے جاری بحری ناکہ بندی میں توسیع کرتے ہوئے، امریکی فوج ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر رہی ہے تا کہ تہران کی جانب سے اپنی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے ذریعے جدید ہتھیاروں کے نظام اور دیگر پابندی شدہ مواد کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو جاری ہونے سے قبل ملنے والے ایک بیان کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) سنیچر کو اس نئی ٹاسک فورس کا باضابطہ اعلان کرے گی۔ اس سے قبل اس فورس کے قیام کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔
اس فورس کو ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ کا نام دیا جائے گا اور اس کا ہیڈ کوارٹر فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں ہوگا جہاں سے یہ امریکہ کے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کی نگرانی کرے گی۔ ہتھیاروں کی نقل و حمل روکنے کے علاوہ، یہ فورس دوہری استعمال کی اشیاء اور غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے بیان میں کہا ’امریکی بین الاجنسی شراکت داروں کے ساتھ سنتکام کے تعاون کو مضبوط بنانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کے کارخانے دوبارہ قائم کرنے اور اپنی فوج کو دوبارہ لیس کرنے کی صلاحیت کو مزید محدود کیا جا سکے گا۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ کے تخمینے کے مطابق، اس کی بحری ناثابندی کے نتیجے میں ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خام تیل کی برآمد سے محروم کیا جا چکا ہے۔
