Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ترک پارلیمان نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی، سعودی عرب کی فوجی مدد کی راہ ہموار

ایران نواز یمن کے حوثی ریاض ایئرپورٹ سمیت سعودی عرب میں مختلف مقامات پر حملے کر چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے، جس سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو سامنے آنے والی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
اس معاہدے پر تینوں ممالک نے اگست میں دستخط کیے تھے، اس کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس معاہدے کو پچھلے ماہ پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
ترکیہ کی حکمران جماعت کے ایک رکن نے پچھلے مہینے خبر رساں ادارے کو بتایا تھا  کہ ایک ایسی قرارداد بھی پارلیمان پیش کی جائے گی جس سے اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت سے متعلق بھی قرارداد پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔

شیئر: