امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اہم پیش رفت کے قریب: رپورٹ
امریکہ کا مؤقف ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملات کو بھی شامل کرنا ضروری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں اہم پیش رفت کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ان معاملات پر بھی بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے جن پر اس سے قبل مذاکرات سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ’بلومبرگ‘ نے مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار کے حوالے سے جمعے کو بتایا کہ ’ایران قطر کی جانب سے پیش کی گئی اپنی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔‘ سفارت کار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
دوسری جانب قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر کی جانب سے جاری بیان میں اس رابطے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو ایک ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا تھا کہ ’تہران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ایک تجویز بھیجی ہے۔‘
ایرانی عہدیدار کے مطابق اس تجویز پر بات چیت اس وقت تک شروع نہیں ہوگی جب تک واشنگٹن ایران کے سات مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ ’امریکہ اس وقت ایرانی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔‘
ایران کے مطالبات میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کا مؤقف ہے کہ ابتدائی مذاکرات میں جوہری معاملات کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
ان پیش رفتوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں کسی ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
