Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

توبہ کی تو بیماری لمحوں میں ختم ہو گئی، نومسلم محمد سفیان

ہندوگھرانے میں پروان چڑھا مگر ہر وقت یہ سوچ رہتی تھی کہ اتنے سارے بھگوانوں نے ہمیں بنایا ہے یاان سب نے ہمیں تخلیق کیا ہے ، سابق شرما کی اردونیوز سے گفتگو
جدہ ( ارسلان ہاشمی ) نو مسلم نوجوان محمد سفیان کا کہنا ہے کہ گنبد خضراءکو تصاویر میں دیکھ کر سوچا کرتا تھا کیا کبھی دیار حبیب کی زیارت نصیب ہو گی ۔ رب تعالی نے میری دعا قبول کی اورمیں ہندوستان سے براہ راست مدینہ منورہ پہنچا ۔یہاں آکر قلب و ذہن کی جو کیفیت تھی اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ شہر مقدس میں گزرے چند دن سرمایہ حیات اورمیرے وجود کے لئے باعث تقویت ہیں ۔ ہندوستان کے صوبے ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ماضی کے سورپ دت شرما اور اب محمد سفیان نے اردونیوز کو اپنی زندگی کی سب سے بڑ ی تبدیلی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا برہمن گھرانے میں پیدا ہوا اور پروان چڑھا جو کٹر مذہبی تھا پوجا پاٹ اور اشلوک کی پابندی کی جاتی تھی۔ ہندو مذہب کی کتابیں شروع سے ہی زیر مطالعہ رہیں مگر اس سوچ نے ہمیشہ مجھے بے چین رکھا کہ اتنے ساروں نے مل کر ہمیں بنایا ،یا ہم سب نے ملکر اتنے سارے بھگوانوں کو تخلیق کیا ؟ میں اپنے بزرگوں سے سوال کرتا تھا مگر مجھے تسلی بخش جواب نہیں ملتا تھا وہ یہی کہا کرتے تھے یہ ہمارے باپ دادا کا دین ہے اس پر سوال نہ کرو بس عمل کرتے جاو۔ میرے ذہن نے ان جوابوں کو قبول نہیں کیا ۔ ہمارے علاقے ہریانہ کے محلے فرید آباد میں سوا سو گھر ہندووُں کے جبکہ ایک ہی مسلم خاندان ہے ۔ ان کا لڑکا عبدالصمدمیرا بچپن کا دوست ہے ۔ وہ مجھ سے ہندو مذہب کے بارے میں سوال کیاکر تا تھا۔ وہ مجھے ہندو مذہب کے بارے بتاتا تھا کہ تمہارے مذہب میں بھی توحید کاعنصر شامل ہے ۔ جو بعد میں مجھے " ویدوں" میں ملا جس میں ایک خدا کا ذکر ہے مگر اسے عام لوگوں کو پڑھنے نہیں دیا جاتا۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا مجھے 2011 میں دوسری بار جگر کا انفیکشن ہوا ۔ مجھے موت کا خوف لاحق ہو گیا اور یہ سوچ رہتی تھی کہ کیا میں نے بھگوان کا حق ادا کیا ؟ ایک دن عبدالصمد میری بیماری کا سن کر مجھ سے ملنے آیا تو میں نے اس سے کہا میرے پیٹ میں آگ سی لگتی محسوس ہو تی ہے کیا کروں؟ اس نے کہا تم بتاﺅ تمہارے مذہب میں ویدوں نے اس بارے میں کیا کہا ہے ؟ یہ سن کر میں خاموش ہو گیا کیونکہ مجھے کچھ معلوم ہی نہیں تھا ۔اس نے مجھے شب معراج کا واقعہ سنایا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے افراد سے ملایا گیا جو انگارے پھانک رہے تھے اور انکے بارے میں حضرت جبرائیل نے بتایا کہ وہ لوگ سود خور ہیں ۔ یہ سن کر میں اندر سے کانپ گیا کیونکہ میں اس وقت تک لوگوں کو سود پرادھار دیا کرتا تھا جس کا علم میرے دوست عبدالصمد کو نہیں تھا ۔ میں نے اسی دن یہ فیصلہ کیا کہ میں سود پر رقم نہیں دوں گا بلکہ دوست کے جانے کے بعد میں نے ان لوگوںکو فون کرکے کہا کہ آج کے بعد سے میں آپ سے سود نہیں لوں گا میری اصل رقم ہی لوٹا دیں ۔ میرے اس فعل کے فوری بعد مجھے تکلیف سے آرام آگیا اور آج تک وہ کیفیت نہیں ہوئی جو اس سے قبل مجھے مسلسل رہا کرتی تھی ۔ابو سفیان نے مزید کہا کہ میرے والد " شیو بھگت " تھے اس لئے میں بھی انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے شیو بھگت تھا اور میں شیوپران ( ہندو فرقے کی کتاب ) مسلسل پڑھتا تھا ۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ برہما ، وشنو اور شیو کی عبادت کرنی ہے اور اگر کسی ایک کی اور باقی کو چھوڑ دیا تو عبادت پوری نہیں ہو گی ۔ میں یہ سوچتا تھا کہ یہ کیا بات ہوئی حالانکہ شیو تو بڑا ہے اور اسکے ساتھ دیگر 2 کی پوجا بھی کیوں لازمی ہے ؟ میرا عقیدہ متزلزل ہونے لگا میرے دوست نے کہا تم دیگر مذہب کا بھی مطالعہ کرو ۔ میں نے انٹر نیٹ پر دیگر مذہبوں کا مطالعہ شروع کیا جس میں مجھے توحید کے بارے میں صرف اسلام میں ہی ملا اور میں نے یکسوئی سے اسلام کا مطالعہ شروع کردیا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ہی میرے لئے راہ نجات ہے ۔ اب میرے لئے راہ آسان ہو تی گئی اور میں نے اپنے دوست کو بتایا تو اس نے مجھے جامعہ مسجد کے امام کے پاس بھیجا ۔ جہاں میں نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا اور مغرب کی نماز باجماعت ادا کی ۔ گھر آکر مجھے بے حد مسرت ہو رہی تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا میں نے ابھی جنم لیا ہے ۔ دعا ہے کہ رب کریم مجھے استقامت عطا کرے ۔ میں نے کشمیر میں بھی کئی ماہ گزارے وہاں کا چپہ چپہ دیکھا ہے میں ان لوگوں کو کہتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ "کشمیر جنت نظیر ہے " کشمیر نہیں بلکہ مدینہ منورہ مثل جنت ہے ۔ دعا ہے کہ اس شہر مقدس میں میری بار بار حاضری ہو ۔ 

شیئر: