Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میسی کا تاریخی گول تنازع کی زد میں، آسٹریا کے خلاف گول پر سوالات

تنازعے کی وجہ ارجنٹینا کے مڈفیلڈر الیکسس میک ایلسٹر اور آسٹریا کے ژاور شلاگر کے درمیان ہونے والا وہ تصادم بنا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے پیر کو آسٹریا کے خلاف فیفا ورلڈ کپ کے میچ میں تاریخ رقم کر دی، تاہم ان کا ریکارڈ ساز گول میچ کے بعد ایک تنازع کا موضوع بن گیا  ہے۔
میسی نے آسٹریا کے خلاف 2-0 کی فتح میں دونوں گول کیے جس کے بعد فیفا ورلڈ کپس میں ان کے گولز کی تعداد 18 ہو چکی ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کے سابق فارورڈ میروسلاو کلوزے کا ریکارڈ پیچھے چھوڑتے ہوئے مردوں کے ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کر لیا۔
اس تاریخی لمحے کے فوراً بعد بحث اس بات پر شروع ہوئی کہ آیا میسی کا پہلا گول شمار ہونا چاہیے تھا یا نہیں۔
تنازع کی وجہ ارجنٹینا کے مڈفیلڈر الیکسس میک ایلسٹر اور آسٹریا کے ژاور شلاگر کے درمیان ہونے والا وہ تصادم بنا جو ارجنٹینا کے گول سے کچھ لمحے پہلے پیش آیا تھا۔ بعض مبصرین اور سابق کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ میک ایلسٹر نے شلاگر کے خلاف فاؤل کیا تھا، جس پر کھیل روک دیا جانا چاہیے تھا۔
سابق ڈنمارک اور مانچسٹر یونائیٹڈ کے گول کیپر پیٹر شمائیکل نے فاکس سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے ریفری کے فیصلے پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ گول منظور نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ میک ایلسٹر نے آسٹریا کے کھلاڑی کو گرا دیا تھا اور اس پر فری کِک ملنی چاہیے تھی۔
پیٹر شمائیکل نے وی اے آر کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ریفری سے غلطی ہوئی تھی تو وی اے آر کو مداخلت کرنی چاہیے تھی۔

لیونل میسی فیفا ورلڈ کپس میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر بن گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے ای ایس پی این کے ریفری کے فیصلے پر تجزیہ دیتے ہوئے لکھا کہ وی اے آر کی جانب سے گول کو برقرار رکھنے کا فیصلہ درست تھا۔
ای ایس پی این کے مطابق وی اے آر نے گول سے قبل ہونے والی پوری اٹیکنگ فیز کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میک ایلسٹر اور شلاگر کے درمیان ہونے والا رابطہ واضح فاؤل کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔
تجزیے میں کہا گیا کہ شلاگر اس وقت مکمل طور پر متوازن حالت میں نہیں تھے اور دونوں کھلاڑیوں کی حرکت نے تصادم میں کردار ادا کیا، اس لیے آن فیلڈ ریفری کے فیصلے کو واضح غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔
ای ایس پی این کے مطابق چونکہ وی اے آر صرف اسی صورت میں مداخلت کرتا ہے جب واضح اور نمایاں غلطی موجود ہو، اس لیے اس واقعے میں ریفری کو مانیٹر پر بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میسی کو اس سے قبل میچ میں ریکارڈ بنانے کا ایک اور موقع بھی ملا تھا جب ارجنٹینا کو پینلٹی دی گئی، تاہم 38 سالہ سٹار کھلاڑی پینلٹی پر گول کرنے میں ناکام رہے تھے۔
بعد ازاں 38ویں منٹ میں ارجنٹینا کے ایک اٹیک کے دوران بال میسی تک پہنچی اور انہوں نے گول کیا۔
یہی گول بعد میں میچ کا اہم ترین لمحہ ثابت ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ریفری اور وی اے آر کے فیصلے پر بحث بھی شروع ہو گئی۔
اگرچہ تنازع اپنی جگہ برقرار ہے لیکن سرکاری ریکارڈ میں گول برقرار ہے اور ورلڈ کپ کی تاریخ کا نیا ریکارڈ بدستور لیونل میسی کے نام درج ہو چکا ہے۔

شیئر: