جعلی اکاؤنٹس کیس: نئے انکشافات‘ ملزمان فرار

اسلام آباد:  ملک میں ایک کے بعد ایک سامنے آنے والے جعلی اکاؤنٹس کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث سندھ حکومت کے کئی سرکاری افسران ملک سے باہر فرار ہو چکے ہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ اسلام آباد میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت میں جے آئی ٹی نے دوسری پیش رفت رپورٹ جمع کرائی ہے اس دوران چیف جسٹس کے استفسار پر جے آئی ٹی کے سربراہ نے بتایا کہ تاحال تحقیقات جاری ہیں، معاملہ جعلی اکاؤنٹس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ چور مر جائیں گے لیکن ایک پیسہ نہیں دیں گے۔  چوروں نے ایسے اکاؤنٹس میں پیسہ رکھا تو نہیں ہوگا۔ جے آئی ٹی کے سربراہ احسان صادق نے کہا کہ رقوم نکلوا کر اکاونٹس بند کر دیے جاتے تھے۔ جعلی اکاؤنٹس اور کمپنیوں کے ذریعے بھاری رقوم منتقل کی گئیں۔ رکشا ڈرائیور اور فالودے والے کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے تھے۔ علاوہ ازیں  دو مُردوں کے بھی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ اب تک کی جانے والی تحقیقات کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ بہت بڑا فراڈ ہوا ہے۔
احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جارہا۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ کیا جعلی بینک اکاونٹس سے وابستہ کچھ لوگ مفرور ہیں۔  جس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ سندھ حکومت کے کئی سرکاری افسران بیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں۔ ان جعلی اکاؤنٹس سے 47 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں اور 36 بے نامی کمپنیوں سے مزید 54 ارب روپے منتقل کیے گئے جبکہ اومنی گروپ کی کئی کمپنیاں کیس سے منسلک ہیں۔
چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ کار سرکار میں مداخلت ہوگی تو کارروائی ہو گی۔ سپریم کورٹ نے 26 اکتوبر کو آئی جی سندھ کو بھی طلب کرلیا جبکہ اومنی گروپ کے وکیل کی جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
 
مزید پڑھیں:- - - -وزیر اعظم کسی قسم کی کرپشن برداشت نہیں کریں گے‘ فواد چودھری

شیئر: