کے الیکٹرک کی کہانی کیا ہے؟

کراچی ( صلاح الدین حیدر)کراچی کو بجلی سپلائی کرنےوالی کمپنی جس کا اصل نام کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن تھا، اسے بعد میں نجی تحویل میں لینے والوں نے اسے کے الیکٹرک کردیا۔ آج کل یہ اسی نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ا س بارے میں بہت سے لوگوں کو شکایت ہے کہ یہ اپنے فرائض میں نہ صرف بری طرح ناکام رہی بلکہ غلط اور غیر معیاری میٹر لگا کر صارفین سے کروڑوں روپے اینٹھ لئے۔ اس سے پہلے خریدنے والی کمپنی سعودی عرب کی تھی، جس نے اس کو 164ملین ڈالرکے عوض خریدا تھا۔ اس کی اہم حصے دار ایک جرمن کمپنی نے اس کا ساتھ نہیں دیا پھر یہ متحدہ عرب امارت کے کچھ لوگوں کے ہاتھ بک گئی جو آج کل بھی اس کے مالک ہیں، عارف نقوی اس کے چیف آفیسر ہیں۔ بجائے کراچی کے پرانے تاروں اور سپلائی سسٹم کو جدید طرز سے لیس کرتے صرف پرانے قرضے اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ نتیجتاً کراچی میں بجلی کا بحران اب بھی شدت سے موجود ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں بہت بڑے بڑے پاکستانی سیاستدانوں کو کمیشن جاتاہے۔ اس لئے کوئی اس پر شور نہیں مچاتا، صحیح ہے یا غلط مگر ایک بات بتاتی ہے کہ کے الیکٹرک اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوگئی۔ آج ان کے مالکان کے پاس اربوں روپے جمع ہوگئے۔ بجلی اور پانی فراہم کرنے والے اداروں کو یوٹیلٹی کمپنیز کہا جاتاہے۔کراچی میں تو کہانی ہی کچھ اور ہے۔ جس طرح پانامہ لیکس وزیر اعظم نواز شریف کے لئے نااہلی کی وجہ بنا ۔ اسی طرح کے الیکٹرک کا معاملہ ہے۔ شریف برادران پر آسمانی بجلی کی طرح نیا عذاب کی صورت میں نمایاں ہوا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے کھوج کھاج کر چونکادینے والا انکشاف کیا کہ کے الیکٹرک جسے  شنگھائی الیکٹرک کمپنی خریدنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔اسے 64.3 فیصد حصہ کے مالک ہونے کا اختیار ہوتا۔ عارف نقوی اور دوسرے با اثر شخصیات نے اس ڈیل کو مکمل ہونے سے روک دیا۔ وال اسٹریٹ جنرل نے الزام لگایا کہ شریف برادران کو 20 ملین ڈالر ز رشوت دی گئی تھی جس سے کے الیکٹرک کی فروخت رک گئی۔ جب بات کھل ہی گئی ہے تو پھر موجودہ وزیر اعظم نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ۔نیب اور فیڈر ل انویسٹی گیشن ایجنسی کو حکم دیا کہ معاملے کی پوری طرح تحقیقات کی جائے ۔وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے بھی یہی موقف اختیار کیا کہ اسے ایف آئی اے یا نیب کو تحقیق کرنے کا کام سونپا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ ہوسکے۔ عمران خان کے احکامات کے جاری ہوتے ہی۔کے الیکٹرک کے چیف ایگزیٹو عارف نقوی نے پریس ریلیز جاری کی کہ وہ ایک منصوبے کے تحت کراچی کی ساری گلی تاروں کو جدید بنائیںگے۔ اسی طرح پول پر لگے ہوئے ٹاور بھی نئے لگائے جائیں گے تاکہ بجلی کا نظام صحیح ہوسکے۔ سوال یہ ہے کہ اب انہیں یہ خیال اتنے برسوں بعد کیوں آیا۔ پہلے جو کچھ معاہدہ میں لکھا گیا تھا اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ ایف آئی اے اور اب پوری طرح ایک پلان کے تحت کے الیکٹرک کی جانچ پڑتال کرنے والی ہے۔ اس نے عارف نقوی کو بھی نوٹس بھجوادیا جس میں کہا گیا کہ دفتر میں آکر جواب دیں، ریکارڈ بھی ساتھ لائیں۔ 
 

شیئر: