Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دباؤ میں آئیں نہ تنقید کی پروا کریں‘، محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو ’فری ہینڈ‘ دے دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چئیرمین محسن نقوی سے سلیکشن کمیٹی کے ممبران نے ملاقات کی جس میں چئیرمین پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو ’مکمل فری ہینڈ‘ دے دیا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ ’سلیکشن کمیٹی بغیر کسی دباؤ کے ایمان داری سے فرائض سرانجام دے اور کسی کی تنقید کی پروا نہ کرے۔ میری پوری سپورٹ سلیکٹرز کے ساتھ ہے۔‘
پی سی بی کے مطابق ’مصباح الحق، سرفراز احمد، اسد شفیق اور عاقب جاوید نے بھرپور اعتماد کے اظہار پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا۔‘

سلیکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ’قومی ٹیم کا انتخاب کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان کی باہمی مشاورت سے ہوتا ہے۔‘
سنیچر کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں عاقب جاوید نے سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
عاقب جاوید نے کہا کہ ’ٹی20 ورلڈ کپ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، تاہم ٹیم توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ بدقسمتی سے ہم وہ نتائج حاصل نہیں کر سکے جن کی امید تھی، ہمیں توقع تھی کہ ہم سیمی فائنل تک پہنچیں گے۔‘
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ’انڈیا سے ہارنے کا دُکھ ضرور ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب تک مقابلوں میں نتیجہ ہمارے حق میں نہیں آیا، سپر ایٹ مرحلے میں ہم صرف ایک میچ ہارے، ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا جس کے بعد ہم رن ریٹ کی بنیاد پر ایونٹ سے باہر ہوئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ‘ہم ہر ایونٹ کے بعد کہتے ہیں کہ سکروٹنی ہونی چاہیے، سب بدل دو، چیئرمین بدل دو، سلیکٹرز بدل دو، کپتان بدل دو۔’
انہوں نے سری لنکا کے خلاف میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ ’اس میچ میں پچ ایسی تھی کہ کسی ٹیم کے لیے کم سکور پر آؤٹ ہونا ممکن نہیں تھا۔‘
قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ ’میری نظر میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، ہم نے جنوبی افریقہ کو جنوبی افریقہ میں اور آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں شکست دی۔‘
بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے لیے سکواڈ کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ ’اس سیریز میں کسی کھلاڑی کو ڈراپ نہیں کیا گیا بلکہ چند سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دے کر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔‘

عاقب جاوید نے  سلیکشن کمیٹی کے ارکان مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کی (فوٹو: یوٹیوب)

ان کے مطابق ’بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا اس وقت مکمل فٹ نہیں ہیں اس لیے وہ سیریز میں شامل نہیں۔‘
عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ’ہم تحقیقات کرائیں گے کہ ورلڈ کپ کے فوراً بعد دو اہم کھلاڑی انجری کا شکار کیسے ہو گئے اور کیا یہ انجریز ایونٹ کے دوران ہی ہوئی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پلیئنگ الیون کا فیصلہ کرنا کوچ اور کپتان کی ذمہ داری ہے کیونکہ میدان میں ٹیم کو وہی لیڈ کرتے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اب دوبارہ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز آنا مشکل ہیں، اس دور میں صرف جسپریت بمراہ کے علاوہ کوئی ایسا بولر نظر نہیں آتا جسے کھیلنا بہت مشکل ہو۔‘
اس موقع پر سلیکشن کمیٹی کے رکن سرفراز احمد نے کہا کہ ’ہمارے پاس وکٹ کیپنگ کے لیے دو سے تین آپشنز موجود ہیں اور آئندہ سیزن میں نئے کھلاڑیوں کو مزید مواقع دیے جائیں گے۔‘
ادھر محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کمیٹی بغیر کسی دباؤ کے ایمان داری سے اپنے فرائض سرانجام دے اور تنقید برائے تنقید کی پروا نہ کرے۔‘
لاہور میں سلیکشن کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں انہوں نے مزید کہا کہ ’سلیکشن کمیٹی اپنے فیصلے آزادانہ اور مکمل شفافیت کے ساتھ کرے، بورڈ ان کے ہر فیصلے میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

شیئر: