Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں سالانہ 190 ارب کے موبائل فون ا سمگل

  اسلام آباد... قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فنانس ایکٹ 2018میں حکومت کی طرف سے کی گئی ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ موبائل فون پر ٹیکسوں کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 4 مختلف قسم کے ٹیکس تھے جن کو اکٹھا کر دیا گیا ۔ 10 ہزار سے 28 ہزار کے فون پر4ہزار ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ 60 ہزار سے ایک لاکھ والے فون پر 8ہزار اور ایک لاکھ سے1.5لاکھ کے فون پر 23ہزار ٹیکس جبکہ1.5لاکھ سے اوپر کے موبائل فون لانے پر 41ہزار ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔حماد اظہر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں سالانہ 190 ارب کے موبائل فون ا سمگل ہو رہے تھے۔ ترامیم سے اسمگلنگ کو کنڑول کرنے میں مدد ملے گی ۔ان اقدام سے حکومت کو50 ارب روپے کی سالانہ آمدن حاصل ہو گی ۔چھینے گئے موبائل آسانی سے ٹریس کئے جا سکیں گے۔ دنیا کے چھ ممالک میں یہ سسٹم رائج ہو چکا ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 15جنوری تک جتنے فونز کی رجسٹریشن کرائی گئی وہ ریگولر کر دئیے گئے۔ اس کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل30 دن کے اندر اگر رجسٹر نہ کرائے گئے تو بند کر دئیے جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نان فائلر13 سو سی سی کار اور50 لاکھ کی پراپرٹی کی رجسٹریشن کرا سکیں گے۔قائمہ کمیٹی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ13 سو سی سی کی بجائے8 سو سی سی تک محدود رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جا سکے۔

شیئر: