Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اسلام آباد میں یونیورسٹی بنے گی

اسلام آباد... قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز نے او پی ایف کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ او پی ایف کو جس مقصد کےلئے بنایا گیا تھا ادارہ آج تک اس مقصد کےلئے کام کرنے میں ناکام رہا۔ پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پارپاکستانیوں کا اجلاس چیئرمین شیخ فیاض الدین کی زیر صدارت ہوا ۔سیکرٹری او پی ایف نے بتایاکہ 50 فیصد باہر جانے والے پاکستانی ا سکلڈ نہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے لیبر کا سبجیکٹ صوبوں کے پاس جاچکا ہے۔
خبر رساں ایجنسی این این آئی کے مطابق ایم ڈی او پی ایف نے بریفنگ میں کہاکہ اوور سیز پاکستانیز کے 2 آنکھوں کے اسپتال ہیں۔او پی ایف آفس میں نادرا کاونٹر اور پاسپورٹ لا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اوورسیز پاکستانیز کے بچوں کیلئے 24 اسکولز اینڈ کالجز بنائے گئے ہیں۔ اوور سیز کے 19 ہزار بچے ان ا سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بے نظیر بھٹو کے دونوں بچے بلاول اور آصفہ اوورسیز پاکستانیز کے اسکولز میں پڑھے ہیں۔
اجلاس کے دوران ایم ڈی او پی ایف نے بتایا کہ حکومت نے اووزسیز پاکستانیز کے بچوں کی تعلیم کیلئے بڑا فیصلہ کیا ہے ۔ اسلام آباد میں پہلی یونیورسٹی قائم کی جائےگی۔ یونیورسٹی 20 مئی 2020 میں فنکشنل ہو جائے گی۔ وزارت نے یونیورسٹی کے چارٹر کیلئے اپلائی کر لیا ۔ایم ڈی او پی ایف نے بتایا کہ وزارت نے اووسیز پاکستانیز یوتھ کونسل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کو سال میں ایک مرتبہ پاکستان کا دورہ کرایا جائےگا۔ نوجوانوں کو پاکستان کے تاریخی مقامات کا وزٹ کرائیں گے۔ اووسیز یوتھ کونسل ممبران کو وزیراعظم سے بھی ملاقات کرائی جائےگی۔ 

شیئر: