فوربز کے’30 انڈر 30‘ میں شامل کامیاب پاکستانی کون ؟

5 پاکستانی نوجوان اور ایک پاکستانی نوجون کا شروع کردہ  سٹارٹ اپ کو معروف جریدے فوربز نے اپنی 30 برس سے کم عمر کامیاب افراد کی فہرست کا حصہ بنایا ہے۔
اس فہرست میں دنیا بھر سے 30 برس سے کم عمر کے ایسے افراد کو شامل کیا جاتا جنہوں نے اپنی کارکردگی سے جدت اور لیاقت کا ثبوت دیا ہو۔
ایشیائی قیادت کی آئندہ نسل کے عنوان سے فوربز میگزین کی یہ فہرست محققین کی جانب2 ہزار سے زائد پروفائلز کا جائزہ لینے کے بعد ترتیب دی گئی ہے۔
فوربز میگزین کی جانب سے 30 برس سے کم عمر 30 کے عنوان سے فہرست 2011 میں متعارف کرائی گئی۔ ان افراد کے تعین کے  لئے قیادت کی صلاحیت، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ رواں برس جریدے نے ان پاکستانیوں کو اپنی فہرست کا حصہ بنایا ہے۔
زینب بی بی
2013 میں پاکستان سوسائٹی برائے گرین انرجی بنانے والی زینب نے ایک تحقیقی ادارے کی بنیاد رکھی تاکہ ماحولیاتی مسائل کے متعلق آگاہی پیدا کر کے متبادل توانائی کے ذرائع تشکیل د ئیے جا سکیں۔اپنی دیگر کامیابیوں کے ساتھ ساتھ زینب بی بی نے استعمال شدہ ٹشو پیپرز سے بائیو فیول بنایا جس پر انہیں ملکہ برطانیہ کا 'ینگ لیڈر ایوارڈ' ملا۔
لیلیٰ قصوری
گولبل گرین گروتھ انویسٹمنٹ کے ساتھ  پانی کے تجزیہ کار کے طور پر کام کرنے والی لیلیٰ قصوری ہارورڈ سے ہائیڈرولوجی اور جیو میکینکس میں گریجویشن کی ڈگری لی۔ انہوں نے ماحول دوست آبپاشی کے موضوع پر لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کی تحقیق کی قیادت بھی کی۔
کرشمہ علی
پاکستان کے شمال مغربی ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی کرشمہ علی اپنے علاقے سے تعلق رکھنے والی واحد خاتون فٹبالر ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف فٹبال کلبز کی نمائندگی کی ہے۔ چترال وومن اسپورٹس کلب بنانے والی کرشمہ دیگر خواتین کو بھی کھیلوں کی جانب راغب کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
احمد روف عیسیٰ
پاکستان میں ای کامرس کے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ایک ٹیلی مارٹ کے بانی احمد روف عیسیٰ نے 23 برس کی عمر میں بزنس سکول کا طالب علم ہوتے ہوئے یہ منصوبہ شروع کیا تھا۔ چند برسوں میں متعدد ملکی اور بین الاقوامی اعزازات پانے والے احمد روف عیسیٰ کو 2018 کے انٹرنیشنل بزنس ایوارڈز کا جج مقرر کیا گیا تھا۔
زین اشرف
پاکستان میں کراؤڈ فنڈنگ سے متعلق پہلے پلیٹ فارم سیڈ آوٹ کے بانی زین اشرف سود سے پاک مائکروفناسنگ کے ذریعہ غربت کے خاتمہ پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ڈویلپمنٹ سیکٹر میں اپنی کردار کی بدولت زین کو کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
روشنی رائیڈز
کراچی میں خواتین کو کار کے مشترکہ استعمال کی خدمات فراہم کرنے والی ’روشنی رائیڈز‘ حنا لاکھانی، حسن عثمانی، جیا فاروقی اور منیب میاں نے مشترکہ طور پر قائم کیا۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انہیں مناسب نرخوں پر محفوظ سفری سہو لتیں فراہم کرنے کے لیے ’روشی رائیڈز‘ کو ستمبر 2017 میں ہلٹ پرائز چیلنج جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، اس موقع پر پاکستانی سٹارٹ اپ کو دس لاکھ ڈالر ایوارڈ  کئے گئے تھے۔
 

شیئر: