بیساکھی: ’500روپے خرچ کرتے ہیں تو پاکستان کو ہی فائدہ ہوگا‘

زاہد النسا۔ حسن ابدال 
 
پلوامہ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید اس سال سکھوں کا مذہبی تہوار ’بیساکھی‘ پہلے جیسی گرم جوشی سے نہیں منایا جائے گا، مگر اتوار کوپاکستان میں واقع گردوارہ پنجہ صاحب میں منظر کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے گشیدگی کا خیال ذہن سے نکل گیا۔
پاکستان میں ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال میں واقع اس گردوارے کا آنگن اتوار کی صبح بیساکھی کے موقع پر متعدد لوگوں سے بھرا ہوا تھا ، جن میں پاکستان ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک کے لوگ شامل تھے۔
صبح  نو سے دس بجے کے درمیان گردوارے کے وسط میں موجود عبادت گاہ میں’ کرتن‘ کا آغاز ہوا۔ جہاں ایک طرف لوگ دعا میں مشغول تھے وہاں دوسری طرف عبادت گاہ کے نیچے موجود تالاب میں بچے اور بڑے کھلے آسمان تلے ٹھنڈے پانی میں تیرتے ہوئے تہوار کا اپنے انداز میں مزہ لے رہے تھے۔ تالاب کے گرد سیڑھیاں اس کے نچلے حصے کی طرف جا رہی تھیں جہاں پانی کم گہرا تھا اور لوگ اپنے پیر اس میں ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے۔
 میرے سوال پوچھنے پر پشاور سے آئی ایک سکھ خاتون نے بتایا کہ ’یہ پانی شفا دیتا ہے‘، جس کی وجہ سے وہ اس سے اپنے پاؤ دھو رہی تھیں۔ 
اس عبادت گاہ کے قریب کھڑی انڈیا سے آئی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال ان کا ویزا رد کر دیا گیا تھا اور اس بار پلوامہ حملے کے بعد انہیں موقع ملنے کی امید نہیں تھی۔ ’لیکن ہمارے من میں شردھا تھی اور ہم نے سوچ لیا تھا کہ یہاں ضرور آئیں گے۔‘
گردوارہ پنجہ صاحب سنہ 1823 میں سردار ہری سنگھ نلوا نے تعمیر کرایا تھا جبکہ  سنہ 1933 میں اس عمارت کی تجدید کی گئی تھی۔ 
اس گردوارے کا نام بابا گرو نانک کے ہاتھ کے نشانہ سے منسوب ہے جو ایک پتھر پر نقش ہے۔ اسی مناسبت سے یہ گردوارہ سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے اور ہر سال بیساکھی کے تہوار کی سب سے بڑی تقریب بھی یہیں منعقد کی جاتی ہے جس میں شرکت کے لیے انڈیا سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریں یہاں آتے ہیں۔ 

اس عبادت گاہ کے گرد صحن میں لوگ گدے اور تکیے لگائے بھجن کرتن سن رہے تھے، جن میں ایک نو بیاہی دلہن بھی شامل تھی جو انڈیا آئی تھی۔ ان کے ہمراہ دولہے کے گھر والے موجود تھے ۔ 
صحن کی دوسری جانب انڈیا اور کینیڈا سے آئے یاتری بیٹھے تھے ، جو پہلی بار پاکستان آئے تھے اور خواہش کر رہے تھے کہ انہیں گردواروں کے دورے کے علاوہ بازاروں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں جانے کی بھی اجازت دی جائے تاکہ وہ پاکستان سے سوغات واپس اپنے گھر لے جا سکیں۔ 
اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے صحن میں بیٹھے، انڈین پنجاب کے شہر بٹھنڈا سے آئے گرچرن سنگھ کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم یہاں 500روپے خرچ کرتے ہیں تو اس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہو گا۔‘
صحن کی اوپر والی منزل میں بھی یاتری کھڑے گردوارے کا نظارہ کر رہے تھے ۔ بالائی منزل پریاتریوں کے ٹھہرنے کے لیے کمرے بنے ہوئے ہیں جہاں دور دراز سے آئے سکھ یاتری آرام سے رات سے گزار سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے یاتریوں کو شکوہ تھا کہ ان کو کمرے کی آسائش میسر نہیں تھی، باوجود اس کے کہ خالی کمرے موجود تھے۔ 

گردوارے کے احاطے میں ’لنگر سٹور‘  کے نام سے ایک سٹال بھی لگا ہوا تھا جو اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے سکھوں کی سہولت کے لگایا گیا تھا۔ سٹال پر آٹے، چینی اور چاول کی بوریوں کے علاوہ لال شربت کی بوتلوں کا ڈھیر لگا ہوادکھائی دے رہا تھا۔ سٹال پر ان تمام اشیا کا بندوبست کیا ہوا تھا جو لنگر تیار کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔  
لنگر سٹور عارف رشید نامی مقامی دکاندار نے لگایا ہوا تھا جن کو مقامی انتظامیہ نے مقرر کررکھا تھا۔ 
سٹور سے لوگ ’سیوا ‘ کی نیت سے بھی راشن خرید کر لنگرمیں بھجوا رہے تھے تاکہ وہ کسی طرح اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال لیں جس کی بنیادگرونانک نے پندرہویں صدی میں رکھی تھی۔ 
لنگر تیار کرنے کا تمام کام عورتوں اور مردوں نے سنبھال رکھا تھا جو انتہائی ہم آہنگی اور خوش اصلوبی کے ساتھ اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے تھے۔ ان کے جذبے کو دیکھ کر قطعاً یہ نہیں لگ رہا تھا کہ ان میں سے بہت سے یاتری پہلی دفعہ ایک دوسر سے مل رہے ہوں گے۔
لنگر کی ذمہ داری سنبھالنے والوں کو ’سیوک ‘ بھی کہا جاتا ہے، یعنی مذہب کی راہ میں خلق خدا کی خدمت کرنے والے۔ 
ایک طرف بڑی بڑی کڑھائیوں میں پکوڑے اورما لپورے کی پوڑیاں تلی جا رہی تھیں، تو دوسری طرف دیگوں میں مزیدارپکوان تیار کیے جارہے تھے۔
  لاہور سے آئے ہوئے نان بائی محمد اکمل نے تندور سنبھالا ہوا تھا جولنگر کے شرکا کو نان کھلانے کے جذبے سے آئے ہوئے تھے۔نذیر احمد بھی اسی جذبے سے بہاولپور سے آئے ہوئے تھے ، جو ایک دن میں تقریباً 3000  سے  4000نان بنا رہے تھے۔ 

انڈیا کے ضلع موگا سے آئے پرم جیت سنگھ بھی سیوکوں میں سے تھے جن کا کہنا تھا کہ دن بھر میں لگ بھگ 50مختلف طرح کے کھانے بنائے جاتے ہیں جن میں پکوڑے ایسی چیز ہیں جو دن بھر چلتے رہتے ہیں ۔ 
دوپہر تین بجے کے قریب یاتریوں کا رش کم ہونے لگا تھا جو اب اگلے دن کی راہ تک رہے تھے جب انہیں  بابا گرو نانک کے جنم استھان ضلع ننکانہ صاحب لے جایا جائے گا۔ 
 

شیئر: