اسد عمر کو مستعفی کیوں ہونا پڑا؟

***اعظم خان***
ایک ایسے وقت میں جب  وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا  تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو معاشی مسائل کا سامنا ہے اور گذشتہ چند ماہ میں معیشت کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں پر تنقید کی وجہ سے حکومت دباؤ میں دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب موجودہ حکومت کی جانب سے اپنا پہلا مالی بجٹ پیش کرنے میں چند ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں اوراسد عمر گذشتہ چھ سال سے ہر بجٹ پرتحریک انصاف کی طرف سے تنقید کرتےآئے ہیں لیکن اپنا پہلا بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ متنبہ کرتے ہوئے مستعفی ہو گئے کہ نئے آنے والے وزیر خزانہ کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔
وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلے پر سیاسی مخالفین تو دلچسپ  تبصرے کر  رہے ہیں لیکن  معاشی ماہرین  اس تبدیلی کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اس فیصلے کا  براہ راست تعلق معاشی  پالیسی کی ناکامی سے  بنتا ہے۔
معیشت دان ڈاکٹر اشفاق حسن  نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد عمر وزیر اعظم عمران خان کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ 
’ایسا لگتا ہے کہ اسد عمر نے وزیرخزانہ ہوتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ  جومذاکرات کیے ہیں اور جن شرائط پر قرض کے لئےراضی ہوئے ان سے وزیراعظم ناراض ہوئے ہیں۔ ‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد عمر نے وزیر خزانہ سے استعفیٰ لے کر اچھا کیا ہے، حکومت 9 ماہ کے بعد مان گئی کہ معاشی پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔ ’ہر پاکستانی کا مطالبہ تھا کہ حکومت اپنی معاشی پالیسی پر نظر دوڑائے،  پاکستان کی عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہی ہے۔‘ بلاول بھٹوکا کہنا ہے کہ   9 ماہ بعد اسد عمر آئی ایم ایف بیل آوٹ پیکیج پر کام کررہے تھے۔
اشفاق حسن نے اسدعمر  کے آئی ایم ایف کی طرف جانے کوبڑی غلطی قرار دیا۔ ’ ابھی تک یہی معلوم نہیں ہوسکا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے۔‘
وفاقی وزیر شیریں مزاری  نےاردو نیوز سے  بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے وزیر خزانہ کا انتخاب پہلا بڑا چیلنج ہو گا۔  اس تبدیلی کو حیران کن قرار دیتے ہوئے  انہوں نے کہا  کہ  انہیں اسد عمر کے ٹویٹ سے ہی  ان کے استعفے کے بارے میں معلوم ہوا۔ مجھے لگا کہ یہ جعلی خبر ہے، میں خود تو اس کی تردید کرتی رہی لیکن اب پارٹی ذرائع سے معلوم ہوا کہ کابینہ میں مزید تبدیلیاں بھی عمل میں لائی جارہی ہیں، پہلا چیلنج نئے وزیر خزانہ کا انتخاب ہوگا۔
سابق سیکرٹری خزانہ وقارمسعود نے اردو نیوز کو بتایا کہ نو ماہ کی تاخیر سے آئی ایم ایف کے پاس جانا بہت سنگین غلطی تھی جس کے ذمہ  داروزیر اعظم بھی ہیں۔ اسد عمر کے استعفے کے باوجود حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ ’ اس موقع پر وزیرخزانہ کا مستعفی ہوجانا تشویش  کا باعث ہے۔‘
اسد عمر کے استعفے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ ملکی معیشیت کا قومی سلامتی کےساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔ خراب معاشی صورتحال میں قومی سلامتی  پر حرف آتا ہے۔ ’یہ ایک ایسا وقت ہے جب انڈیا سرحد پربیٹھا ہے تو پھرجب معاشی حالات بھی اچھے نہ ہوں تو پھر گھبراہٹ ہوجاتی ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نواز کی ایم این اے شائستہ پرویز کہتی ہیں کہ یہ سب بہت پہلے ہوجا نا چاہیے تھا، وزیر خزانہ کی تبدیلی کے لئے غلط وقت کا انتخاب کیا گیا ہے۔ بجٹ سر پر ہے، ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بھی چل رہے ہیں۔
اشفاق حسن نے مطالبہ کیا کہ  معاشی پالیسی کو واضح رخ دینے کے لیے پوری معاشی ٹیم کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ’اسد عمر کی ناکامی کا مطلب ہے کہ پوری ٹیم کمزور تھی۔ کوئی بھی  میچ جیتنے کے لیے ٹیم کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ ‘
مزید پڑهئے:وزیر خزانہ اسد عمر مستعفی،’وزیرِ اعظم کابینہ میں مزید تبدیلیاں چاہتے ہیں‘‎

شیئر: