سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کو” گمراہ‘ کرنے کی بحث کیوں؟

 شاہد عباسی
 
 پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ایک بزرگ افغان شہری کی گفتگو کا گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے من چاہا ترجمہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ساتھ  ہی یہ سوال بھی کئے جا رہے ہیں کہ کیا شاہ فرمان نے عمران خان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
عمران خان گزشتہ روز جمعے کو جلسہ عام سے خطاب کے لیے خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند گئے تھے اس دوران انہوں نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اپنی والدہ سے منسوب شوکت خانم کینسر ہسپتال کے دورے میں وہاں زیرعلاج افغان مریضوں سے ملاقات بھی کی تھی۔
وزیراعظم کی مریضوں سے ملاقات کے مناظر سوشل میڈیا پر آئے تو افغان علاقے مزار شریف سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شہری نے اپنے بیٹے کے آپریشن کیے جانے کی روداد سناتے ہوئے اپنی ضرورتوں، ہسپتال کے عمدہ انتظامات اور معالجوں کے اچھے رویہ کا ذکر کیا۔ گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے ان جملوں کا ترجمہ کرتے ہوئے عمران خان سے کہا وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ آپ ادھر (پاکستان) الیکٹ ہوئے۔
سوشل میڈیا پر زیرگردش ویڈیو میں بزرگ افغان شہری کے اصل جملوں اور گورنر شاہ فرمان کے نقل ترجمہ پر تبصرہ کرنے والوں نے غم و غصہ کا اظہار کیا تو کہیں اسے شعر و نثر کی مدد سے نقد کا نشانہ بنایا۔ عاطف توقیر نے اپنے جذبات ظاہر کرنے کے لیے جون ایلیا کا سہارا لیتے ہوئے کہا 'نسبتَ علم ہے بہت حاکمِ وقت کو عزیز٭اس نے تو کارِ جہل بھی، بے علما نہیں کیا۔
 
 معروف تجزیہ کار رضا احمد رومی نے معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے حکمرانوں اور ان کے قریبی رفقاء کے چاپلوسی پر مبنی روایتی تعلق سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہ کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ حاکموں کو مصاحبین اسی طرح مس گائڈ کرتے ہیں۔
وزیراعظم کے لیے گورنر کے ترجمہ پر تبصرہ کرنے والوں میں ایسے صارفین بھی شامل رہے جو اسے مزاح کا رنگ دے کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے نظر آئے۔ حق نواز خان نامی ٹوئٹر ہینڈل نے اسے فارسی کے استاد شاہ فرمان کے زیراہتمام گورنر ہاؤس پشاور میں فارسی کی نئی کلاس سے تعبیر کیا۔
 
 امریکہ میں مقیم افغان فرزاد نامی ٹوئٹر صارف نے معاملہ کے ایک اور پہلو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بار بار غیرت کے متعلق بات کرتے ہیں یہ ان کے لیے ہے، اگر واقعتا غیرت ہوتی تو آج یہ ویڈیو سامنے نہ آئی ہوتی۔
 
اپنے ترجمہ کی وجہ سے مشکل کا شکار ہونے والے شاہ فرمان پر مسلسل تنقید کے درمیان کچھ ایسے سوشل میڈیا صارفین بھی تھے جو معاملہ کی مزید چھان بین کی جانب توجہ دلاتے رہے۔  علی حسن نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ شاہ فرمان سے یہ سلوک نہ کیا جائے بلکہ کسی فیصلہ تک پہنچنے سے قبل پوری ویڈیو دیکھی جائے، اگر یہ ثابت ہو کہ انہوں نے عمران خان کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے تو انہیں فورا برخاست کر دیا جائے۔
 
 شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے دورہ کے متعلق وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے وہاں کلینیکل اینڈ ریڈی ایشن اونکالوجی کے نئے شعبے کا افتتاح کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے یہاں علاج کے لیے آنے والے افغان مریضوں کا ذکر بھی کیا تھا۔
 

شیئر: