سری لنکا: سوشل میڈیا پر پابندی

سری لنکا میں مساجد اور مسلمانوں کی املاک پر حملوں کے بعد حکام کی جانب سے فیس بک اور واٹس ایپ سمیت بعض سوشل میڈیا سائٹس اور میسیجنگ ایپس کو بند کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق اتوار کو کئی درجن افراد نے سری لنکا کے مغربی ساحل پر واقع مسیحی اکثریت کے شہر چلوا میں مساجد پر پتھراؤ اور مسلمانوں کی املاک پر حملے کیے۔ اس دوران ایک شخص کو مارا پیٹا بھی گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کشیدگی فیس بک پر شروع ہونے والے تنازعے کے بعد پیدا ہوئی۔
اتوار کی رات اور پیر کی صبح کو حکام نے چلوا کے قریبی ضلعے کرونگالا سے مسلمانوں کی املاک پر حملے کے الزام میں مردوں کے ایک گروہ کو گرفتار کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینے اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے مسیحیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کی سروس کے دوران چار ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف فرقہ ورانہ تشدد میں اضافے کے خدشے پر سری لنکا نے ملک بھر میں سکیورٹی بڑھا دی ہے۔
ایسٹر دھماکوں میں غیر ملکیوں سمیت 250 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔  
گورنمنٹ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل نالاکا کالوویرا نے روئٹرز کو بتایا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سری لنکا کے صف اول کے موبائل آپریٹر ڈایالاگ ازیاٹا پی ایل سی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ کمپنی کو وائبر، ایمو، سنیپ چیٹ، انسٹاگرام اور یوٹیوب کو تاحکم ثانی بند کرنے کی ہدایات ملی ہیں۔
ایک فوجی ترجمان سمیت اتاپتو کا کہنا ہے کہ بدھ مت اکثریت والے ضلع کرونگالا میں لوگوں نے گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اتاپتو نے مزید کہا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اس علاقے میں رات کو کرفیو نافذ کیا گیا۔
مسلم کونسل سری لنکا کے مطابق حملے میں چلوا کی کئی مساجد اور مسلمانوں کے گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس علاقے کے ایک رہائشی اور ایک مسجد کے عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ فوری پولیس ایکشن نہ ہونے کی وجہ سے حملوں میں تیزی آئی۔
اس ریجن کے ایک مسلم اکثریتی علاقے کنی یاما کے ایک رہائشی نے روئٹرز کو بتایا کہ مساجد اور مسلمانوں کی املاک پر حملے رات بھر جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی مسجد پر حملہ کیا گیا اور قرآن کے ایک نسخے کی بے حرمتی کی گئی جبکہ قریب کھڑی دو موٹر سائیکلوں کو آگ بھی لگا دی گئی۔
کنی پاما میں ایک مسجد کے عہدیدار نے بتایا کہ حملہ اس وقت ہوا جب بعض راہبوں سمیت کئی افراد نے مرکزی مسجد کے ساتھ 150 ایکڑ پر واقع تالاب کی تلاشی کا مطالبہ کیا۔ جب مسلمانوں نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں گھروں کے اندر رہنے کا کہا۔
سری لنکا کے مسلم گروپوں کا کہنا ہے کہ ایسٹر دھماکوں کے بعد انہیں لوگوں کو ہراس کرنے کی درجنوں شکایات ملی ہیں۔
ایک ہفتہ پہلے معربی ساحل میں واقع نیگیمبو شہر میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ حکومت نے ان جھڑپوں کے بعد بھی سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔

شیئر: