'ٹیم ورک کے بغیر آپ کوئی ریکارڈ نہیں بنا سکتے'، ثنامیر

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر نے ایک روزہ ویمن کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب سپن بولر کا اعزاز حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے لیے ایک 'یادگار ترین لمحہ' ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹیم ورک کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔
آف سپنر ثنا میر نے اتوار کے روز ویمن کرکٹ چیمپئن شپ کے تیسرے ایک روزہ میچ کے دوران سائوتھ افریقن کھلاڑی سنے لویز کو آوٹ کیا اور اپنے کیریئر کی 147 ویں وکٹ لے کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔
دنیا کی کامیاب ترین سپنر کا یہ ٹائٹل اس سے قبل آسٹریلیا کی لیزا ستھالیکر کے پاس تھا جنہیں ثنا میراپنا آئیڈیل سمجھتی ہیں۔ اُن کے مطابق آسٹریلوی کھلاڑی نے یہ ریکارڈ بنانے پر انہیں مبارکباد دی ہے۔
 عرب نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ثنا میر نے کہا کہ 2009 میں جب انہوں نے اپنے کیریئر کا پہلا کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا تو 'ستھالیکر ان کے لیے ایک آئیڈیل کا درجہ رکھتی تھیں۔میں نے ہمیشہ ان سے سیکھا اور یہ میری زندگی کا بہت اہم موقع ہے۔'

ثنامیرکا کہنا تھا کہ 'انہیں پوری دنیا سے کرکٹرز کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، اور ان میں انڈیا کی مایہ ناز بولر جھولن گوسوامی اور سائوتھ افریقہ کی میگنون دو پریز شامل ہیں۔
ثنا میر ایک آرمی آفیسر کی بیٹی ہیں جنہوں نے کرکٹ کا آغاز پانچ سال کی عمر میں اپنے گھر کی گلی سے کیا اور کرکٹ اپنے بڑے بھائی اور دوستوں سے سیکھی۔
انہوں نے ایک روزہ کرکٹ 2005 میں سری لنکا کے خلاف میچ کھیل کر شروع کی، لیکن وہ کوئی وکٹ نہ لے سکیں۔ 2017 میں وہ پاکستان کی پہلی خاتون بن گئیں جنہوں نے 100 ایک روزہ میچز کھیلے۔گذشتہ برس اکتوبر میں وہ پاکستان کی پہلی بولر تھیں جنہوں نے آئی سی سی رینکنگ میں ٹاپ کیا۔
اگست 2017 میں انگلیڈ میں آئی سی سی ورلڈ کپ کھیلنے کے بعد ثنا میر نے بطور کپتان قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ ان دنوں وہ 2021 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کھیل رہی ہیں۔

ثنا میر نے کہا کہ 'پاکستان کے جھنڈے کو بلند لہراتے ہوئے دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوا۔ ہم آہستہ آہستہ رکاوٹیں ختم کر رہے ہیں۔ یہ سب خدا کی مہربانی ہے کہ وہ اس کھیل کے لیے میری محنت اور خلوص کا صلہ دے رہا ہے۔'
تاہم ثنا میرکا ہمیشہ سے کہنا رہا ہے کہ ان کی جیت کے پیچھے ٹیم ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'جب آپ وکٹیں لیتے ہیں تو یہ ٹیم کی محنت ہوتی ہے۔آپ تبھی وکٹ لے سکتے ہیں جب کوئی کیچ پکڑتا ہے، جب کوئی مخالف ٹیم پر دبائو ڈالتا ہے اور اس کے بغیر آپ کوئی ریکارڈ نہیں بنا سکتے۔'

شیئر: