شادی کر کے چین جانے والی لڑکی کی ہلاکت، ماجرہ کیا؟

چند روز قبل بننے والی قبراوراس پرپڑے مرجھائے پھول ان کہی داستان سنا رہے تھے
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں اگر آپ لاہور کی طرف سے داخل ہوں تو چن دا قلعہ بائی پاس کے قریب ہی ایک چھوٹی سی مسیحی آبادی فرانسس آباد کے نام سے ہے۔ اس آبادی سے بھی کئی نوجوان لڑکیوں کی شادی چینی نوجوانوں سے ہوئی ہے۔
اس گاؤں میں کوئی بھی شخص اب شادیوں کے ان واقعات سے متعلق بات کرنے کو تیار نہیں۔ اطلاعات تھیں کہ یہاں کی ایک لڑکی شادی کر کے چین گئی تو چار مہینے کے بعد واپس آ گئی اور چند روز بعد ہی اس کا انتقال ہو گیا۔
فرانسس آباد کے چھوٹے سے قبرستان میں چند روز قبل بننے والی قبراوراس پرپڑے مرجھائے پھول ان کہی داستان سنا رہے تھے لیکن ویرانے میں سننے والا کوئی نہیں تھا۔ سمعیہ کی قبر جیسے عجلت میں بنائی گئی، بس مٹی کا ایک ڈھیر سا دکھائی دے رہا تھا۔
سمیعہ کے بھائی صابر نے بتایا کہ چند مہینے قبل انہوں نے ایک رشتہ طے کروانے والے کے ذریعے اپنی بہن کی شادی چینی نوجوان سے کر دی اور وہ انہیں اپنے ساتھ چین لے گئے۔

سمیعہ کی چین جانے سے قبل لی گئی تصویر

صابر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’وہ بالکل صحت مند اور خوبصورت تھی اس کو کسی بھی قسم کی بیماری نہیں تھی بلکہ چین جانے سے پہلے اس کے تمام ٹیسٹ بھی ہوئے اور وہ سب میں کلیئر تھی۔‘
چین جانے کے بعد سمیعہ کا کبھی کبھار گھروالوں سے رابطہ بھی ہوتا رہا تاہم اس نے کسی قسم کی بیماری یا طبیعیت کی خرابی کا ذکر نہیں کیا۔
صابر نے بتایا کہ پھر کچھ عرصے کے بعد ان کا سمعیہ سے رابطہ نہیں ہوا تو ایک دن ان کے چینی شوہر نے فون پر اطلاع دی کہ سمیعہ کی طبعیت بگڑ گئی ہے وہ اسے واپس پاکستان لارہے ہیں۔  مقررہ وقت پر ایئرر پورٹ پر پہنچے تو چینی شوہر نے سمیعہ کو خاندان والوں کے حوالے کیا اور ایئرپورٹ سے ہی واپس چلے گئے۔

سماجی کارکن عامر بھٹی نے بتایا کہ فرانسس آباد سے اب تک 12 کے قریب لڑکیوں کی شادیاں چینی باشندوں سے کی گئی ہیں

صابر نے بتایا کہ ان کی بہن بہت زیادہ بیمارلگ رہی تھی اور بہکی بہکی باتیں کر رہی تھی۔ ’ہم اس کو فوری طور پر جنرل ہسپتال لاہور لے گئے اور داخل کروا دیا۔ ڈاکٹر روزانہ نت نئے ٹیسٹ کرتے رہے لیکن وہ تشخیص نہ کرسکے کہ آخر سمیعہ کو مسئلہ کیا ہے۔‘
صابر کہتے ہیں کہ ’جب ہم اس کو بتاتے کہ وہ ٹھیک ہوجائے گی تو وہ کہتی کہ نہیں وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ وہ کہتی تھی کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے وہ بہت زیادہ ہیں اور بہت طاقتور ہیں اور وہ کہیں بھی آ کران کو مار سکتے ہیں وہ بہت خوف زدہ تھی۔‘
صابر نے مغموم لہجے میں بتایا کہ سمیعہ کوعجیب و غریب چیزیں نظر آتی تھیں جو وہ بیان نہیں کر پاتی تھی۔ ’ہمیں یقین ہو گیا تھا سمیعہ پر کوئی جناتی سایہ ہے جس کا علاج ڈاکٹرز کے پاس نہیں۔ یکم مئی کو ڈاکٹرز نے جواب دے دیا اور ہم سمیعہ کو واپس فرانسس آباد لے آئے اور اس کے ایک روز بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔‘
مسیحی سماجی کارکن عامر بھٹی نے بتایا کہ فرانسس آباد سے اب تک 12 کے قریب لڑکیوں کی شادیاں چینی باشندوں سے کی گئی ہیں۔ لیکن اب میڈیا میں خبروں کی وجہ سے لوگ ڈر گئے ہیں۔

لاہور میں واقع جوزف کالونی کا منظر 

اجنبیوں سے شادیاں وجہ غربت یا لالچ؟

پاکستان میں آئے چینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر شادیوں اور اب ان شادیوں کو روکنے کے اقدام نے کئی اہم سوال کھڑے کر دیے ہیں اور ان سوالوں میں سے ایک کا جواب جوزف کالونی لاہور کی رہائشی شیلا برناڈ نے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ لالچ میں آ کر اپنی بیٹیوں کی زندگیاں خراب کر رہے ہیں۔ ’میری آنکھوں کے سامنے جوزف کالونی سے دس سے 12 لڑکیوں کی شادیاں کی گئیں، ایک باپ نے تو حد ہی کر دی اس کا نام نہیں لوں گی، اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کو چینیوں سے بیاہ دیا ہے اور یہ سلسلہ دوسال سے جاری ہے۔‘
لاہور کی جوزف کالونی ہی کی ایک کمسن لڑکی شیبا (فرضی نام)  نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے والد بہت غریب ہیں ان کو پیسوں کی بہت ضرورت تھی۔ ’انہوں  نے میری شادی کردی اور دولاکھ روپے لیے۔ شادی کے بعد مجھے ایئرپورٹ کے پاس ایک گھر میں رکھا گیا وہاں میں نے کچھ ہفتے گزارے لیکن مجھ سے وہاں نہیں رہا گیا اور مجھے چین نہِیں جانا تھا اور میں نے طلاق کی ضد کر دی اور اب اسی ہفتے مجھے طلاق مل گئی ہے۔‘

چینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر شادیوں نے کئی طرح کے اہم سوال کھڑے کر دیے

شادیوں کا ذمہ دار کون ہے؟

پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں میں موجود مسیحی آبادیوں میں شادیوں کی ان بکھری کہانیوں کو کھنگالنے سے جو ایک بات مشترک نکلتی ہے وہ  شادی سے قبل کسی شخصی ضمانت کی وجہ سے والدین کی ذاتی تسلی ہے۔
سماجی کارکن سلیم اقبال کا دعویٰ ہے کہ ہر گروہ چار سے پانچ کرداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک پادری، ایک رشتہ ڈھونڈ کر دینے والا ایجنٹ ، ایک عدد دولہا ، دولہے کے بظاہر دوست، آپ کو اکثر ایسی شادیوں میں یہی کردار نظر آئیں گے۔ اور سارے کھیل میں سب سے مظلوم کردار اس لڑکی کا ہے جس کی بہلا پھسلا کر اجنبی سے شادی کر دی جاتی ہے۔
ایف آئی اے نے ان شادیوں کے خلاف فیصل آباد میں پہلے آپریشن کے دوران جن افراد کو حراست میں لیا ان میں ایک پادری زاہد بھی ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے درجن سے زائد شادیاں کروائیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق پادری زاہد سے ابھی تفتیش جاری ہے۔
لاہور کے سب سے بڑے کیتھیڈرل چرچ کے فادر شاہد معراج وضاحت کرتے ہیں کہ ’ان شادیوں میں چرچ کا براہ راست کوئی کردار نہیں ہے۔ چند نام نہاد پادریوں نے ذاتی مفادات کی خاطر مذہب کا نام استعمال کیا ہے۔ پوری مسیحی برادری ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔‘  

ایف آئی اے نے ان شادیوں میں ملوث درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے

سمیعہ کے ساتھ چین میں کیا ہوا؟

بظاہر تو ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ سمیعہ کے ساتھ چین میں کیا ہوا جو ان کی پر اسرار بیماری اور موت کی وجہ بنا  لیکن پاکستان کے ماہر نفسیات ڈاکٹر صداقت علی کا کہنا ہے ’بات بڑی واضع ہے کہ نارمل شادی میں بھی لڑکی سٹریس میں آتی ہے اور یہ ایسا سٹریس ہوتا ہے جس پر عام حالات میں کوئی بات نہیں کرتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’سمیعہ یقیناً بدترین ذہنی دباؤ کا شکار رہی کیوں کہ اس کے لیے نئے کلچر کو اپنانا ممکن نہیں رہا تھا اگر اس پر جسمانی تشدد نہ بھی ہوا تو بدترین ذہنی تشدد کا شکار رہی اور بالآخر اس کا ذہنی توازن درست نہ رہا ہوگا۔‘
ڈاکٹر صداقت علی نے کہا کہ ’میرے پاس ایسے سینکڑوں کیسز آئے ہیں جب لڑکی شادی کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی اور ذہنی توازن کھو بیٹھی اور میرے نزدیک سمیعہ بھی ایسی ہی صورت حال کا شکار ہوئی ہوگی، کم پڑھے لکھے ہونے اور مکمل اجنبی کلچر نے اس کو  مزید گھمبیر بنا دیا تھا۔‘

شیئر: