Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تہران کی خطے میں جوابی کارروائیاں، اسرائیل کا ایران پر ’وسیع حملوں کی لہر‘ کا آغاز

امریکی فوج کے مطابق ایران میں تقریباً دو ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے بدھ کی صبح ایران پر نئے حملے کیے ہیں جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسلامی جمہوریہ میں تقریباً دو ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے پیشِ نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ تیل کے ٹینکرز کو خلیج میں اہم گزرگاہ ہرمز کی تنگ گزرگاہ سے بحفاظت گزارنے کے لیے تیار ہے، جہاں ایران نے اسے بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آدھی رات کے بعد ایران میں ’وسیع پیمانے پر حملوں کی لہر‘ کا آغاز کیا جبکہ اس سے پہلے ایران نے اسرائیل پر تین الگ الگ میزائل حملے کیے جن کے نتیجے میں تل ابیب میں ایک خاتون معمولی زخمی ہوئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے منگل کو بتایا کہ امریکی فوج نے 17 ایرانی جہاز تباہ کر دیے جن میں ایک آبدوز بھی شامل ہے اور ایران میں تقریباً دو ہزار اہداف پر حملہ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو میں کہا کہ ’آج خلیج فارس ، ہرمز کی تنگ گزرگاہ، یا گلف آف عمان میں ایک بھی ایرانی جہاز فعال نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور سیکڑوں بیلسٹک میزائل، لانچر اور ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ امریکی جہازوں سے میزائل اور لڑاکا طیارے داغے جا رہے ہیں، اور زمین پر اہداف پھٹ رہے ہیں۔
بریڈ کوپر نے بتایا کہ ایران نے جواب میں 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار سے زائد ڈرون داغے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے آخری موبائل بیلسٹک میزائل لانچر کو ’ شکار‘ کر رہا ہے تاکہ ان کی باقی ماندہ لانچ کی صلاحیت ختم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں 50,000 سے زائد فوجی، 200 لڑاکا طیارے، دو طیارہ بردار جہاز اور بمبار شامل ہیں جبکہ مزید فوجی اور جنگی صلاحیتیں بھی تعینات کی جا رہی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے بریڈ کوپر کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی تو ہم نے شروعات کی ہے، امریکی فوج ان تمام چیزوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘
انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ فوج زبردست طاقت کی حامل ہیں اور پچھلی نسل میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی تعیناتی کی عکاسی کرتی ہیں۔‘ انہوں نے پہلے دن کے حملے کو 2003 میں صدام حسین کے عراق کے خلاف کیے گئے مشہور ’شاک اینڈ او‘ سے بھی وسیع قرار دیا۔
ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آدھی رات کے بعد ایران میں ’وسیع پیمانے پر حملوں کی لہر‘ کا آغاز کیا (فوٹو: اے ایف پی)

ایران نے اعلان کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں وہ بھاری نقصان پہنچائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ قطر میں امریکی فوجی اڈے ال عُدید پر بھی حملہ کیا گیا۔
یہ حملے ریاض اور کویت سٹی میں امریکی سفارتخانوں اور بحرین میں ایک امریکی ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے ایک دن بعد کیے گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے جنرل ابراہیم جباری نے کہا کہ ’ہم دشمن سے کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ ہمارے اہم مراکز پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم خطے کے تمام اقتصادی مراکز کو نشانہ بنائیں گے۔‘
مختلف رپورٹس اور مقامی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں خلیج کے علاقے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

 

شیئر: